Express News:
2026-07-23@23:50:08 GMT

کولمبو میں کرکٹ کا دنگل

اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT

کولمبو:

کراچی ایئرپورٹ سے اگر آپ نے حال ہی میں بیرون ملک سفر کیا ہے تو اندازہ ہو گا کہ یہ آسان نہیں رہا، اسی لیے صبح 7 بجے کی فلائٹ کیلیے میں رات ڈھائی بجے ہی ایئرپورٹ پہنچ گیا۔

مرکزی عمارت کے اندر داخل ہونے کی ہی لائن لگی ہوئی تھی،یہاں سے آگے جائیں تو سامان اسکین کروانے کی لائن تھی،پھر اینٹی نارکوٹکس والے سب نہیں کچھ لوگوں کو روک کرپوچھ گچھ کرتے۔

 آگے بورڈنگ پاس کیلیے ٹرکش ایئرلائنز کی جتنی بڑی لائن تھی میں نے پاکستان میں کبھی کسی ائیرلائن کاؤنٹر پر نہیں دیکھی، البتہ خوش قسمتی سے سری لنکنز ایئرلائنز کے کاؤنٹر پر زیادہ رش نہیں تھا۔ 

بورڈنگ پاس ملنے کے بعد امیگریشن کاؤنٹرز کی جانب دیکھا تو وہاں بھی صورتحال نسبتا بہتر لگی، زیادہ کاؤنٹرز فعال تھے، البتہ اب بھی رش زیادہ ہوجاتا ہے۔ 

لاؤنج میں ہی اندازہ ہو گیا کہ بیشتر کرکٹ شائقین ہی کولمبو جا رہے ہیں، اکثر کی فیملیز بھی ساتھ تھیں، پی سی بی کی شرٹ پہنے ایک صاحب کئی فارمز تھامے فاسٹ ٹریک میں تمام مراحل طے کراتے نظر آئے،بعد میں پتا چلا وہ گورننگ بورڈ ارکان کا پروٹوکول دیکھ رہے تھے۔ 

میرے ساتھ فلائٹ میں ظہیر عباس سمیت کئی بی او جی ممبرز موجود تھے جنھیں بورڈ پاک بھارت میچ دیکھنے کیلیے بھیج رہا تھا، ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے، سفر ٹھیک رہا البتہ پرانے جہاز نے پی آئی اے کی یاد دلا دی۔ 

نشستوں کا حال بھی بہت خراب تھا،فون کے برابر کی اسکرین سامنے لگی تھی،سچ بتاؤں مجھے تو تھوڑا ڈر بھی لگ رہا تھا جو ٹیک آف سے قبل ڈھوں ڈھاں کی آوازوں نے مزید بڑھا دیا لیکن جہاز آسمان پر جانے کے بعد سب ٹھیک رہا، فلائٹ اور لینڈنگ دونوں بہتر تھیں۔ 

پاکستانیوں کو سری لنکا جانے کیلیے ای ٹی ای کا سادہ سا آن لائن فارم بھرنا ہوتا ہے ، فیس 20،25 ڈالر ہے،24 گھنٹے میں ڈبل انٹری ویزا سب کو ہی مل جاتا ہے، میں نے دسمبر میں ہی یہ مرحلہ مکمل کر لیا تھا، البتہ کئی دوستوں سے سنا کہ اب ای ٹی اے میں تاخیر ہو رہی ہے، شاید وجہ شائقین کا رش بنی۔ 

سری لنکا نے اس مسئلے کا حل آمد کے بعد ویزا دینے کی صورت میں نکال لیا، میری فلائٹ میں جو دیگر پاکستانی تھے ان میں سے کئی کو آن ارایول ویزا ہی ملا، امیگریشن کا مرحلہ 3،4 منٹ میں ہی حل ہو گیا،کرنسی تبدیل کرائی تو علم ہوا کہ سری لنکن روپے سے پاکستانی روپیہ تھوڑا مضبوط ہے۔ 

ایئرپورٹ سے جاتے ہوئے راستے میں بڑے بڑے کسینیوز کے بل بورڈز دیکھے، سری لنکا میں بہت سے لوگ صرف جوا کھیلنے بھی آتے ہیں، ان کی اکانومی سیاحت سے ہی چلتی ہے، کوویڈ کے دنوں میں جب سیاحوں نے آنا چھوڑا تو ملک دیوالیہ ہو گیا تھا۔ 

میں ایئرپورٹ سے براہ راست اپنا ایکریڈیشن کارڈ لینے ایس ایس سی چلا گیا جہاں آئرلینڈ اور عمان کے میچ کی وجہ سے سیکیورٹی سخت تھی،خیر رابطے پر میڈیا منیجر نے باہر آ کر مجھے کارڈ دے دیا ورنہ میچ ڈے پر کوئی بھی بغیر کارڈ کے اسٹیڈیم میں داخل نہیں ہو سکتا۔ 

چونکہ ویلنٹائن ڈے تھا اس لیے ہوٹل کے ریسٹورینٹ میں بیشتر جوڑے ہی نظر آئے، زیادہ تر خواتین سرخ لباس میں ملبوس تھیں، باہر بڑی اسکرین پر ورلڈکپ کے میچز بھی دیکھے جا رہے تھے، ہائی ٹی سے لطف اندوز ہونے کے بعد میں اپنے کمرے میں چلا گیا تاکہ اسٹوریز بھیج سکوں۔

اس سے قبل لابی میں ایک پاکستانی شائق سے ملاقات ہوئی جو دبئی سے میچ دیکھنے اپنے بھارتی دوستوں کے ساتھ کولمبو آیا تھا، میں نے ٹیم کے میڈیا منیجر نعیم گیلانی کو میسج بھیجا کہ کوئی بھی اپ ڈیٹ ہو تو بتایئے گا لیکن 2 دن گذر چکے ان کا جواب ہی نہیں آیا، شاید وہ محسن نقوی اور عامر میر سے بھی زیادہ مصروف ہیں۔ 

رات کو ڈنر میں ایک پاکستانی ریسٹورینٹ سے کھانا منگوایا جسے کھا کر دبئی بہت یاد آیا جہاں دنیا کے ہرملک کا بہترین کھانا باآسانی مل جاتا ہے، چند کرکٹرز سے بات ہوئی تو پتا چلا کہ چیئرمین نے بھی ٹیم سے ملاقات کر کے حوصلہ بڑھایا ہے۔

میچ سے قبل بھارتی پاکستانی اسپنر عثمان طارق سے حد سے زیادہ خوفزدہ نظر آئے، اسی لیے ایکشن کے معاملے پر محاذ کھول دیا گیا، دونوں ٹیموں کی الگ الگ اوقات میں پریکٹس ہوئی،اس سے قبل میڈیا کانفرنس میں سلمان علی آغا سے کئی سوالات عثمان پر ہوئے،وہ ان کا بھرپور دفاع کرتے رہے۔ 

گزشتہ کئی دنوں میں کرکٹ سے زیادہ محکمہ موسمیات کی ویب سائٹس دیکھی جاتی رہیں کہ میچ کے دن بارش ہو گی یا نہیں اس کا علم ہو سکے البتہ شکر ہے موسم بہتر ہو گیا۔

منتظمین نے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ آغاز سے چار گھنٹے قبل دوپہر تین بجے ہی اسٹیڈیم کے دروازے کھول دیے جائیں گے تاکہ سیکیورٹی کے مراحل آسانی سے طے ہو سکیں،میں تو اس سے بھی کافی پہلے پہنچ گیا۔ 

دنیا میں کہیں بھی پاک بھارت میچ ہو آپ جتنی جلدی وینیو پر جا سکتے ہیں چلے جائیں تاکہ بعد میں پریشانی نہ ہو، آر پریماداسا اسٹیڈیم کے اندر اور باہر بہت زیادہ پولیس تھی میں نے کافی عرصے بعد کرکٹ میچ میں ایسے مناظر دیکھے۔ 

پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں الگ الگ ہوٹل میں قیام پذیر ہیں وہاں بھی سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے،میڈیا سینٹر میں اپنا لیپ ٹاپ رکھ کر طویل واک کے بعد میں دوبارہ اسٹیڈیم کے باہر گیا تاکہ شائقین سے میچ کے حوالے سے ’’ایکسپریس نیوز‘‘ کے لیے باتیں کر سکوں۔ 

وہاں کی روداد انشااللہ کل بتاؤں گا، ابھی براہ راست ٹاس پر لے چلتا ہوں، مجھے میری سورس سے صبح ہی علم ہو چکا تھا کہ انڈینز باز نہیں آئے اور اب پھر کپتانوں میں ہینڈ شیک نہیں ہوگا، یہ بات ٹاس کے موقع پر درست بھی ثابت ہو گئی۔ 

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے قبل ہمیشہ سخت باتیں کرنے والے ہربھجن سنگھ نے بھی صاحبزادہ فرحان کا انٹرویو لینے سے قبل ہاتھ ملایا تھا، سنجے منجریکر بھی نوہینڈ شیک کی اپنی ملکی پالیسی کو غلط قرار دے چکے۔ 

خیر میڈیا سینٹر میں ابھی یہ وائرس نہیں پہنچا اور دونوں ممالک کے جو صحافی ایک دوسرے کو جانتے ہیں وہ ہاتھ ملاتے نظر آئے،اس وقت تک اسٹیڈیم تقریبا بھر چکا اور انڈینز کی بڑی تعداد ان میں شامل ہے،پاکستانی بھی موجود ہیں لیکن اتنے زیادہ نہیں ، باقی رودارانشااللہ کل سناتا ہوں۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میں ہی ہو گیا کے بعد

پڑھیں:

بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.

(جاری ہے)

سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں.

شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی .

ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف