کولمبو میں کرکٹ کا دنگل
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
کولمبو:
کراچی ایئرپورٹ سے اگر آپ نے حال ہی میں بیرون ملک سفر کیا ہے تو اندازہ ہو گا کہ یہ آسان نہیں رہا، اسی لیے صبح 7 بجے کی فلائٹ کیلیے میں رات ڈھائی بجے ہی ایئرپورٹ پہنچ گیا۔
مرکزی عمارت کے اندر داخل ہونے کی ہی لائن لگی ہوئی تھی،یہاں سے آگے جائیں تو سامان اسکین کروانے کی لائن تھی،پھر اینٹی نارکوٹکس والے سب نہیں کچھ لوگوں کو روک کرپوچھ گچھ کرتے۔
آگے بورڈنگ پاس کیلیے ٹرکش ایئرلائنز کی جتنی بڑی لائن تھی میں نے پاکستان میں کبھی کسی ائیرلائن کاؤنٹر پر نہیں دیکھی، البتہ خوش قسمتی سے سری لنکنز ایئرلائنز کے کاؤنٹر پر زیادہ رش نہیں تھا۔
بورڈنگ پاس ملنے کے بعد امیگریشن کاؤنٹرز کی جانب دیکھا تو وہاں بھی صورتحال نسبتا بہتر لگی، زیادہ کاؤنٹرز فعال تھے، البتہ اب بھی رش زیادہ ہوجاتا ہے۔
لاؤنج میں ہی اندازہ ہو گیا کہ بیشتر کرکٹ شائقین ہی کولمبو جا رہے ہیں، اکثر کی فیملیز بھی ساتھ تھیں، پی سی بی کی شرٹ پہنے ایک صاحب کئی فارمز تھامے فاسٹ ٹریک میں تمام مراحل طے کراتے نظر آئے،بعد میں پتا چلا وہ گورننگ بورڈ ارکان کا پروٹوکول دیکھ رہے تھے۔
میرے ساتھ فلائٹ میں ظہیر عباس سمیت کئی بی او جی ممبرز موجود تھے جنھیں بورڈ پاک بھارت میچ دیکھنے کیلیے بھیج رہا تھا، ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے، سفر ٹھیک رہا البتہ پرانے جہاز نے پی آئی اے کی یاد دلا دی۔
نشستوں کا حال بھی بہت خراب تھا،فون کے برابر کی اسکرین سامنے لگی تھی،سچ بتاؤں مجھے تو تھوڑا ڈر بھی لگ رہا تھا جو ٹیک آف سے قبل ڈھوں ڈھاں کی آوازوں نے مزید بڑھا دیا لیکن جہاز آسمان پر جانے کے بعد سب ٹھیک رہا، فلائٹ اور لینڈنگ دونوں بہتر تھیں۔
پاکستانیوں کو سری لنکا جانے کیلیے ای ٹی ای کا سادہ سا آن لائن فارم بھرنا ہوتا ہے ، فیس 20،25 ڈالر ہے،24 گھنٹے میں ڈبل انٹری ویزا سب کو ہی مل جاتا ہے، میں نے دسمبر میں ہی یہ مرحلہ مکمل کر لیا تھا، البتہ کئی دوستوں سے سنا کہ اب ای ٹی اے میں تاخیر ہو رہی ہے، شاید وجہ شائقین کا رش بنی۔
سری لنکا نے اس مسئلے کا حل آمد کے بعد ویزا دینے کی صورت میں نکال لیا، میری فلائٹ میں جو دیگر پاکستانی تھے ان میں سے کئی کو آن ارایول ویزا ہی ملا، امیگریشن کا مرحلہ 3،4 منٹ میں ہی حل ہو گیا،کرنسی تبدیل کرائی تو علم ہوا کہ سری لنکن روپے سے پاکستانی روپیہ تھوڑا مضبوط ہے۔
ایئرپورٹ سے جاتے ہوئے راستے میں بڑے بڑے کسینیوز کے بل بورڈز دیکھے، سری لنکا میں بہت سے لوگ صرف جوا کھیلنے بھی آتے ہیں، ان کی اکانومی سیاحت سے ہی چلتی ہے، کوویڈ کے دنوں میں جب سیاحوں نے آنا چھوڑا تو ملک دیوالیہ ہو گیا تھا۔
میں ایئرپورٹ سے براہ راست اپنا ایکریڈیشن کارڈ لینے ایس ایس سی چلا گیا جہاں آئرلینڈ اور عمان کے میچ کی وجہ سے سیکیورٹی سخت تھی،خیر رابطے پر میڈیا منیجر نے باہر آ کر مجھے کارڈ دے دیا ورنہ میچ ڈے پر کوئی بھی بغیر کارڈ کے اسٹیڈیم میں داخل نہیں ہو سکتا۔
چونکہ ویلنٹائن ڈے تھا اس لیے ہوٹل کے ریسٹورینٹ میں بیشتر جوڑے ہی نظر آئے، زیادہ تر خواتین سرخ لباس میں ملبوس تھیں، باہر بڑی اسکرین پر ورلڈکپ کے میچز بھی دیکھے جا رہے تھے، ہائی ٹی سے لطف اندوز ہونے کے بعد میں اپنے کمرے میں چلا گیا تاکہ اسٹوریز بھیج سکوں۔
اس سے قبل لابی میں ایک پاکستانی شائق سے ملاقات ہوئی جو دبئی سے میچ دیکھنے اپنے بھارتی دوستوں کے ساتھ کولمبو آیا تھا، میں نے ٹیم کے میڈیا منیجر نعیم گیلانی کو میسج بھیجا کہ کوئی بھی اپ ڈیٹ ہو تو بتایئے گا لیکن 2 دن گذر چکے ان کا جواب ہی نہیں آیا، شاید وہ محسن نقوی اور عامر میر سے بھی زیادہ مصروف ہیں۔
رات کو ڈنر میں ایک پاکستانی ریسٹورینٹ سے کھانا منگوایا جسے کھا کر دبئی بہت یاد آیا جہاں دنیا کے ہرملک کا بہترین کھانا باآسانی مل جاتا ہے، چند کرکٹرز سے بات ہوئی تو پتا چلا کہ چیئرمین نے بھی ٹیم سے ملاقات کر کے حوصلہ بڑھایا ہے۔
میچ سے قبل بھارتی پاکستانی اسپنر عثمان طارق سے حد سے زیادہ خوفزدہ نظر آئے، اسی لیے ایکشن کے معاملے پر محاذ کھول دیا گیا، دونوں ٹیموں کی الگ الگ اوقات میں پریکٹس ہوئی،اس سے قبل میڈیا کانفرنس میں سلمان علی آغا سے کئی سوالات عثمان پر ہوئے،وہ ان کا بھرپور دفاع کرتے رہے۔
گزشتہ کئی دنوں میں کرکٹ سے زیادہ محکمہ موسمیات کی ویب سائٹس دیکھی جاتی رہیں کہ میچ کے دن بارش ہو گی یا نہیں اس کا علم ہو سکے البتہ شکر ہے موسم بہتر ہو گیا۔
منتظمین نے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ آغاز سے چار گھنٹے قبل دوپہر تین بجے ہی اسٹیڈیم کے دروازے کھول دیے جائیں گے تاکہ سیکیورٹی کے مراحل آسانی سے طے ہو سکیں،میں تو اس سے بھی کافی پہلے پہنچ گیا۔
دنیا میں کہیں بھی پاک بھارت میچ ہو آپ جتنی جلدی وینیو پر جا سکتے ہیں چلے جائیں تاکہ بعد میں پریشانی نہ ہو، آر پریماداسا اسٹیڈیم کے اندر اور باہر بہت زیادہ پولیس تھی میں نے کافی عرصے بعد کرکٹ میچ میں ایسے مناظر دیکھے۔
پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں الگ الگ ہوٹل میں قیام پذیر ہیں وہاں بھی سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے،میڈیا سینٹر میں اپنا لیپ ٹاپ رکھ کر طویل واک کے بعد میں دوبارہ اسٹیڈیم کے باہر گیا تاکہ شائقین سے میچ کے حوالے سے ’’ایکسپریس نیوز‘‘ کے لیے باتیں کر سکوں۔
وہاں کی روداد انشااللہ کل بتاؤں گا، ابھی براہ راست ٹاس پر لے چلتا ہوں، مجھے میری سورس سے صبح ہی علم ہو چکا تھا کہ انڈینز باز نہیں آئے اور اب پھر کپتانوں میں ہینڈ شیک نہیں ہوگا، یہ بات ٹاس کے موقع پر درست بھی ثابت ہو گئی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے قبل ہمیشہ سخت باتیں کرنے والے ہربھجن سنگھ نے بھی صاحبزادہ فرحان کا انٹرویو لینے سے قبل ہاتھ ملایا تھا، سنجے منجریکر بھی نوہینڈ شیک کی اپنی ملکی پالیسی کو غلط قرار دے چکے۔
خیر میڈیا سینٹر میں ابھی یہ وائرس نہیں پہنچا اور دونوں ممالک کے جو صحافی ایک دوسرے کو جانتے ہیں وہ ہاتھ ملاتے نظر آئے،اس وقت تک اسٹیڈیم تقریبا بھر چکا اور انڈینز کی بڑی تعداد ان میں شامل ہے،پاکستانی بھی موجود ہیں لیکن اتنے زیادہ نہیں ، باقی رودارانشااللہ کل سناتا ہوں۔
(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں ہی ہو گیا کے بعد
پڑھیں:
جنگ امن اور معیشت کی کہانی
پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔
دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔
علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔
کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔
بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔
کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔
لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔
اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔