اسرائیل میں جرائم کی لہر، فلسطینی شہری سب سے زیادہ متاثر مگر مجرموں کو سزا نہ ہونے کے برابر
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
اسرائیل میں بڑھتے ہوئے پرتشدد جرائم نے فلسطینی نژاد شہریوں کو شدید متاثر کیا ہے، جہاں رواں سال اوسطاً روزانہ ایک شخص قتل ہو رہا ہے۔ یہ واقعات اب غیر معمولی نہیں رہے بلکہ ایک سنگین جرائم کی لہر کا حصہ بن چکے ہیں۔
فلسطینی شہری اسرائیل کی آبادی کا تقریباً 20 فیصد ہیں، تاہم اعداد و شمار شدید عدم مساوات ظاہر کرتے ہیں۔ اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ اور ایلاف کی رپورٹ کے مطابق عرب آبادی میں قتل کے صرف 15 فیصد کیس حل ہوئے جبکہ یہ شرح یہودی آبادی میں 65 فیصد ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کی اسرائیلی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت
ابراہام انیشی ایٹوز کے مطابق 2023 کمیونٹی کے لیے سب سے خونریز سال رہا جس میں 252 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ 2026 کے آغاز سے اب تک 46 اموات ہو چکی ہیں۔
حالیہ ہفتوں میں ہزاروں فلسطینی شہری سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور حکومت سے مؤثر کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ شمالی شہر سخنین میں ہونے والے بڑے احتجاج میں مظاہرین نے انصاف اور تحفظ کا مطالبہ کیا۔ اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے جرائم کے خلاف اقدامات کو قومی ترجیح قرار دیا جبکہ پولیس کمشنر ڈینیئل لیوی نے صورتحال کو ’قومی ایمرجنسی‘ کہا۔
یہ بھی پڑھیے: اسرائیلیوں پر ایران جنگ کے راز استعمال کر کے شرطیں لگانے کا الزام
تاہم متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ بیانات کے باوجود عملی پیش رفت نہیں ہو رہی۔ مقتول ڈاکٹر عبداللہ عواد کے والد کا کہنا ہے کہ اگر ان کا بیٹا یہودی ہوتا تو ملزم جلد گرفتار ہو جاتا۔ انسانی حقوق کے کارکنان کے مطابق ریاستی غفلت اور امتیازی پالیسیوں نے جرائم پیشہ گروہوں کو مضبوط ہونے کا موقع دیا ہے، جس کے خلاف احتجاجی تحریک ملک گیر شکل اختیار کر چکی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔