حیسکو کے تاجروں اور شہریوں سے کیے گئے وعدے ہوا ہوگئے
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میرپورخاص (جسارت نیوز)حیسکو حکام کی جانب سے تاجروں اور شہریوں سے کیے گئے وعدے ہوا ہو گئے۔ شہر کے تجارتی و کاروباری علاقوں کو لوڈشیڈنگ فری زون قرار دینے کا معاہدہ ایک ماہ بھی برقرار نہ رہ سکا اور بدترین غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے تاجروں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق ایک ماہ قبل میرپورخاص کے ایک مقامی ہال میں منعقدہ تقریب میں حیسکو کے اعلیٰ افسران اور تاجر نمائندگان نے شرکت کی تھی جہاں بڑے دعووں کے ساتھ شہر کے متعدد تجارتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ فری قرار دینے کا اعلان کیا گیا تقریب میں باقاعدہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط بھی کیے گئے اور یقین دہانی کرائی گئی کہ کاروباری علاقوں میں بجلی کی بندش نہیں ہوگی۔تاہم تاجروں کا کہنا ہے کہ یہ اعلان محض نمائشی ثابت ہوا ان کے مطابق تقریب کے بعد سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع پر بھرپور تشہیر کی گئی، مگر عملی طور پر صورتحال اس کے برعکس ہے اور کاروباری مراکز میں غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے شہر کے چھوٹے تاجروں نے الزام عائد کیا کہ اس سے قبل بھی لاکھوں روپے خرچ کر کے 16 فیڈرز کو فری زون قرار دینے کا دعویٰ کیا گیا تھا، مگر وہ بھی وقتی ثابت ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ بار بار دعوے اور اعلانات کر کے تاجروں کو اعتماد میں لیا جاتا ہے، لیکن بعد ازاں وعدے پورے نہیں کیے جاتے تاجر برادری نے مطالبہ کیا ہے کہ ماہِ رمضان کی آمد کے پیش نظر تجارتی اور کاروباری علاقوں میں کم از کم لوڈشیڈنگ کی جائے تاکہ بجلی سے وابستہ کاروبار اور دیگر معاشی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ بجلی کی طویل بندش سے نہ صرف مالی نقصان ہو رہا ہے بلکہ صارفین اور کاروباری سرگرمیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں شہری حلقوں نے بھی متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کیے گئے معاہدے کی پاسداری کی جائے اور تجارتی فیڈرز کو فوری طور پر لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دے کر عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ تاجروں اور عوام کی مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کیے گئے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔