سندھ حکومت کی فسطائیت!
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260216-03-2
کراچی کے حقوق، شہریوں کے مسائل کے حل اور عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں پر مشتمل بااختیار و خود مختار شہری حکومت کے قیام کے لیے جماعت اسلامی نے 14 فروری کو یوم احتجاج کا اعلان کررکھا تھا اور اپنے مطالبات کے حق میں سندھ اسمبلی کی عمارت کے سامنے ہفتہ کی شام دھرنا دینے کا پروگرام کئی روز پہلے سے طے شدہ تھا۔ جماعت نے اپنے کارکنان اور شہریوں کو پروگرام میں شرکت کے لیے مسجد خضرا میں جمع ہونے کی ہدایات دے رکھی تھیں۔ چنانچہ جب کارکنان اور شہری بڑی تعداد میں مقررہ وقت پر طے شدہ مقام پر پہنچ گئے تو یہ ایک کارواں کی شکل میں سندھ اسمبلی کی جانب روانہ ہوئے۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر خان اور دیگر رہنما ان کی قیادت کررہے تھے۔ یہ کارواں اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگا رہا تھا اور شرکا نے کتبے بھی اُٹھا رکھے تھے تاہم یہ سب مکمل طور پر نہتے اور پرامن تھے اور ان کی جانب سے کسی قسم کی توڑ پھوڑ کی گئی اور نہ ہی سرکاری املاک کو کسی قسم کا نقصان پہنچایا گیا، مگر ضلعی انتظامیہ نے انہیں سندھ اسمبلی کی عمارت کی جانب جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا اور پولیس کی لاٹھیوں اور آنسو گیس سے مسلح بھاری نفری نے جلوس کے شرکا کا راستہ روک لیا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق نے دیگر قائدین کے ہمراہ پولیس حکام سے مذاکرات بھی کیے اور انہیں یقین دلایا کہ جماعت اسلامی کا دھرنا مکمل طور پر پرامن ہوگا اور سرکاری املاک یا سندھ اسمبلی کی عمارت کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچایا جائے گا اور نہ ہی کارکنان عمارت کے اندر داخل ہوں گے، مگر حکومتی افسران نے ایک نہ سنی اور پولیس نے جماعت اسلامی کے نہتے اور پرامن کارکنوں پر اندھا دھند آنسو گیس کے شیل برسانا اور لاٹھی چارج شروع کردیا۔ کارکنوں پر پھینکی گئی آنسو گیس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس کے شیل زائد المیعاد تھے جس کی وجہ سے کئی کارکن بے ہوش بھی ہوگئے، جبکہ وحشیانہ لاٹھی چارج اور ظالمانہ تشدد سے جلوس کے بہت سے شرکا زخمی بھی ہوئے۔ پولیس نے جماعت اسلامی کے درجنوں کارکنوں اور قائدین کو گرفتار کرلیا جبکہ کچھ کارکنان کے لاپتا ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ پولیس نے دھرنے کے لیے تیار کیا گیا سائونڈ سسٹم والا ٹرک بھی قبضے میں لے کر تھانے پہنچا دیا۔ حکومت کی جانب سے پرامن دھرنے کو سبوتاژ کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات کے باعث سندھ اسمبلی کے گردونواح اور کورٹ روڈ کا علاقہ میدان جنگ بنا رہا۔ اس علاقے میں رہائش پزیر لوگوں اور کاروباری طبقے کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، متعلقہ سڑکوں پر بدترین ٹریفک جام ہوگیا اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں جس کا سبب حکام کی بدانتظامی کے سوا کچھ نہ تھا۔ حکومت سندھ اگر جماعت اسلامی کے کارکنوں اور کراچی کے شہریوں کو اپنا احتجاج کا حق پرامن طور پر استعمال کرنے کی اجازت دے دیتی، بلاوجہ اس میں رکاوٹیں ڈالنے اور دھرنے کے شرکا پر شیلنگ اور لاٹھی چارج کرنے سے گریز کیا جاتا تو شہر کو اس پریشان کن صورت حال اور شہریوں کو پیش آمدہ مشکلات سے بچا جاسکتا تھا۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر نے اس صورت حال کی تمام تر ذمے داری سندھ حکومت پر عائد کرتے ہوئے احتجاج کو شہر بھر میں پھیلانے کا اعلان کیا جس کے مطابق اتوار کو شہر کی 10 مرکزی شاہراہوں پر احتجاجی دھرنے دیے گئے۔ ان مقامات میں شاہراہ فیصل، شاہراہ قائدین، سپر ہائی وے، نیشنل ہائی وے، اورنگی شاہراہ، کورنگی شاہراہ، ماڑی پور روڈ، شاہراہ پاکستان اور دیگر علاقے شامل تھے۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن صورت حال کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے ہنگامی طور پر کراچی پہنچے اور رات گئے ادارہ نور حق میں جماعت کے مقامی قائدین کے ہمراہ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں پرامن شہریوں پر آنسو گیس کی شیلنگ، لاٹھی چارج اور کارکنوں کی بلاجواز گرفتاریاں سندھ حکومت کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے۔ سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کی فسطائیت پورا ملک دیکھ رہا ہے۔ جماعت اسلامی کراچی کے عوام کو ان کے حقوق دلانے کی جدوجہد جاری رکھے گی اور پیپلز پارٹی کے آمرانہ طرز عمل اور حکومتی جبر کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کیا جائے گا۔ چنانچہ ان کی ہدایت پر ملک کے تمام اہم شہروں میں سندھ حکومت کے جماعت اسلامی کے پرامن کارکنوں پر تشدد کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ جمعیت علما اسلام کے ترجمان نے بھی کراچی میں جماعت اسلامی کے مظاہرین پر سندھ حکومت کے لاٹھی چارج اور تشدد کو ریاستی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے اور کہا کہ لاٹھی اور گولی کے ذریعے پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت اپنی نااہلیوں کی پردہ پوشی نہیں کرسکتی۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے محلات میں سندھ سے متعلق بلاول زرداری کی بریفنگ اور زمینی حقائق میں بہت زیادہ تضاد ہے۔ حکومت جبر کے ذریعے کب تک حقائق کو چھپاتی رہے گی۔ سندھ کی تباہی کی ذمے دار پیپلز پارٹی کی حکومت اور پارٹی قیادت ہے۔
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کراچی میں ہفتہ کی شام پیدا ہونے والی صورت حال پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی قانون سے بالاتر نہیں کہ اپنی مرضی چلائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اور انتظامیہ جماعت اسلامی کے قائدین سے رابطے میں تھے اور انہیں آگاہ کردیا گیا تھا کہ ریڈ زون میں داخل نہ ہوں لیکن ان کے کارکن داخل ہوئے اور پولیس پر پتھرائو کیا اور اسمبلی میں گھسنے کی کوشش کی جس پر پولیس کو مجبوراً آنسو گیس کی شیلنگ اور گرفتاریاں کرنا پڑیں۔ محترم شرجیل میمن صاحب شاید اس امر کو فراموش کررہے ہیں کہ ان کا اپنا تعلق بھی ایک سیاسی جماعت سے ہے جس کا نعرہ ہے کہ ’’طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں‘‘ سوال یہ ہے کہ وہ کون سا قانون ہے جو عوامی نمائندگان کے ایوان کو اس طرح کا تقدس دیتا ہے کہ عوام کی وہاں تک رسائی نہ ہوسکے۔ پھر یہ حقیقت تو مختلف ٹیلی ویژن کیمروں سے واضح اور نمایاں ہے کہ پولیس نے اسمبلی کی عمارت سے بہت دور ہی جماعت کے جلوس کو روک کر اس پر شیلنگ شروع کردی تھی۔ ایسے میں اسمبلی کی عمارت میں کارکنوں کے داخل ہونے کی کوشش اور پولیس پر پتھرائو میں پہل کے الزامات کو کیونکر درست اور مبنی بر حقیقت تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت اوّل روز سے دوعملی اور تضاد کی شکار چلی آرہی ہے۔ پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو اقتدار ملنے سے قبل جمہوریت اور عوامی حقوق کے علمبردار رہے مگر جب سقوط ڈھاکا کے بعد اقتدار پر قابض ہوئے تو انہوں نے مخالف سیاسی کارکنوں اور رہنمائوں کے خلاف آمریت اور فسطائیت کے تمام ہتھکنڈے آزمائے بلکہ خود اپنی پارٹی میں اختلاف رائے کرنے والوں کو بھی عبرت کا نشان بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب تک وہ اقتدار میں رہے انہوں نے مسلسل ’’ہنگامی حالت‘‘ نافذ کیے رکھی اور عوام کے تمام آئینی و جمہوری حقوق ان کے اقتدار میں سلب رہے۔ پیپلز پارٹی کے بعد کے ادوار اور موجودہ دور اقتدار کا بھی یہ طرئہ امتیاز ہے کہ وہ اپنے لیے تو تمام حقوق کی طلب گار رہتی ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اقتدار کے حصول کی خاطر دھونس اور دھاندلی کے تمام حربوں کو جائز سمجھتی ہے مگر دوسروں کو ان کے آئینی، قانونی اور جمہوری حقوق دینے پر بھی آمادہ نہیں ہوتی!!!
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسمبلی کی عمارت جماعت اسلامی کے سندھ اسمبلی کی پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت لاٹھی چارج کرتے ہوئے اور پولیس ا نسو گیس کراچی کے صورت حال پولیس نے کی جانب کے تمام کے لیے اور ان
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔