Jasarat News:
2026-06-02@23:21:36 GMT

مقروض معیشت: اعداد و شمار کی گواہی اور اصلاحِ احوال

اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260216-03-7
مالیاتی نظم و نسق کی دنیا میں بعض اعداد و شمار محض ہندسے نہیں ہوتے بلکہ پورے عہد کی معاشی سمت اور حکومتی ترجیحات کا آئینہ بن جاتے ہیں۔ سال 2025 کے اختتام پر جب مجموعی سرکاری قرضہ 80 کھرب روپے کی حد عبور کر گیا اور سود کی ادائیگیاں 8 اعشاریہ 9 کھرب روپے تک جا پہنچیں تو یہ محض حسابی اضافہ نہیں تھا بلکہ قومی معیشت پر بڑھتے ہوئے بوجھ کی ایک گہری علامت تھی۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق اسی مدت میں اندرونی قرض 54.

6 کھرب روپے اور بیرونی قرض 26 کھرب روپے کی سطح پر ریکارڈ کیا گیا، جب کہ اصل زر کی واپسی کے حجم میں گزشتہ چند برسوں کے دوران نمایاں اُتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔ یہ تمام حقائق اس امر کے متقاضی ہیں کہ ہم قرض اور ادائیگی کے اس پورے منظرنامے کو جذباتیت سے ہٹ کر ایک محققانہ نگاہ سے دیکھیں۔

سب سے پہلے یہ حقیقت پیش نظر رہنی چاہیے کہ 80 کھرب روپے کا مجموعی قرض کسی ایک سال کی پیداوار نہیں بلکہ مسلسل مالی خساروں، محدود محصولات، بڑھتے ہوئے جاری اخراجات اور کمزور پیداواری ڈھانچے کا منطقی نتیجہ ہے۔ جب ریاست کے اخراجات اس کی آمدنی سے مستقل طور پر بڑھ جائیں تو خلا کو پْر کرنے کے لیے قرض ہی واحد راستہ رہ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرض کا حجم بڑھتا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ سود کی ادائیگیوں کا بوجھ بھی۔ 8.9 کھرب روپے کی سالانہ سودی ادائیگی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ قومی بجٹ کا بڑا حصہ محض قرض کے خرچ پر صرف ہو رہا ہے، نہ کہ تعلیم، صحت، انفرا اسٹرکچر یا سماجی بہبود جیسے پیداواری شعبوں پر۔

اندرونی اور بیرونی قرض کے تناسب پر نظر ڈالیں تو ایک اہم رجحان سامنے آتا ہے۔ اندرونی قرض 54.6 کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے جو مجموعی قرض کا بڑا حصہ ہے، جب کہ بیرونی قرض 26 کھرب روپے پر محدود ہے۔ بظاہر یہ صورت حال اس پہلو سے اطمینان بخش سمجھی جا سکتی ہے کہ بیرونی قرض کا تناسب کم ہے، کیونکہ بیرونی قرض عموماً زرِ مبادلہ کے دباؤ، شرح مبادلہ کے اُتار چڑھاؤ اور عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط سے جڑا ہوتا ہے۔ تاہم اندرونی قرض میں غیر معمولی اضافہ بھی کم تشویش ناک نہیں، کیونکہ یہ مقامی مالیاتی منڈیوں سے وسائل کھینچ لیتا ہے، نجی شعبے کے لیے قرض مہنگا کر دیتا ہے اور شرح سود کو بلند رکھنے کا سبب بنتا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ 2021 سے 2025 تک اصل زر کی واپسی کے حجم میں خاصی تیزی دیکھی گئی۔ 2021 میں 19.5 کھرب روپے کی ادائیگی کے بعد 2022 میں یہ رقم 23.2 کھرب، 2023 میں 30.2 کھرب، 2024 میں 28 کھرب اور 2025 میں 27.1 کھرب روپے رہی۔ ان اعداد سے واضح ہوتا ہے کہ 2023 میں واپسی کا حجم اپنے عروج پر پہنچا، جس کے بعد کچھ کمی واقع ہوئی مگر مجموعی سطح بلند ہی رہی۔ یہ رجحان دو متضاد تعبیرات کو جنم دیتا ہے۔ ایک تعبیر یہ ہے کہ حکومت نے قرضوں کی ری فنانسنگ اور میچورٹی مینجمنٹ میں فعال حکمت عملی اپنائی، جس کے تحت پرانے قرض چکانے کے لیے نئے قرض حاصل کیے گئے اور یوں ادائیگی کا حجم بڑھا۔ دوسری تعبیر یہ ہے کہ قرضوں کی ساخت ایسی ہو چکی ہے جس میں قلیل مدتی قرضوں کا حصہ زیادہ ہے، اس لیے بار بار بھاری ادائیگیوں کی ضرورت پیش آتی ہے۔

یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ 2022 سے 2025 تک اندرونی قرض کی واپسی بیرونی قرض کے مقابلے میں کہیں زیادہ رہی۔ 2022 میں 23.2 کھرب، 2023 میں 30.2 کھرب، 2024 میں 28 کھرب اور 2025 میں 27.1 کھرب روپے کی ادائیگی اس بات کی غماز ہے کہ حکومت نے مقامی ذرائع سے حاصل کردہ قرضوں کی ریٹائرمنٹ پر خاص توجہ دی۔ اس پالیسی کے کچھ مثبت پہلو ہو سکتے ہیں، مثلاً شرح سود کے دباؤ کو کم کرنا یا مالیاتی منڈی میں اعتماد بحال کرنا، لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان ادائیگیوں کے لیے مزید اندرونی قرض لیا گیا؟ اگر ایسا ہے تو یہ محض قرض کے دائرے کو گھمانے کے مترادف ہے، جس سے اصل بوجھ کم ہونے کے بجائے طویل مدت میں بڑھ سکتا ہے۔

سود کی 8.9 کھرب روپے کی ادائیگی بجٹ کے ڈھانچے پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ جب آمدنی کا بڑا حصہ قرض کی خدمت پر صرف ہو جائے تو ترقیاتی اخراجات سکڑ جاتے ہیں۔ نتیجتاً معیشت کی نمو سست پڑتی ہے، روزگار کے مواقع محدود ہوتے ہیں اور ٹیکس نیٹ وسیع کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ یوں ایک ایسا چکر جنم لیتا ہے جس میں کمزور نمو مزید قرض کی ضرورت کو بڑھا دیتی ہے۔ اس صورت حال سے نکلنے کے لیے محض قرض کی ری شیڈولنگ کافی نہیں بلکہ محصولات میں پائیدار اضافہ، غیر ضروری اخراجات میں کمی اور پیداواری شعبوں میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔

ایک اور پہلو زرِ مبادلہ کے ذخائر اور بیرونی ادائیگیوں کا ہے۔ اگرچہ بیرونی قرض کا حجم نسبتاً کم دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کی واپسی ڈالر یا دیگر غیر ملکی کرنسی میں ہوتی ہے۔ لہٰذا برآمدات، ترسیلات زر اور غیر ملکی سرمایہ کاری کا استحکام بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر برآمدی کارکردگی کمزور ہو تو بیرونی قرض کا بوجھ کہیں زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ اس لیے قرض کی پائیداری کا جائزہ لیتے وقت صرف روپے میں اس کا حجم دیکھنا کافی نہیں، بلکہ معیشت کی مجموعی پیداواری صلاحیت اور زرمبادلہ کمانے کی استعداد بھی پیش نظر رکھنی چاہیے۔

یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ گزشتہ برسوں میں اصل زر کی بھاری واپسی کے باوجود مجموعی قرض 80 کھرب روپے سے تجاوز کر گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نئی قرض گیری کی رفتار ادائیگیوں سے زیادہ رہی۔ یہ صورتحال مالیاتی خسارے کی مسلسل موجودگی کی غماز ہے۔ جب تک بجٹ خسارہ بنیادی سطح پر کم نہیں ہوگا، قرض کا حجم گھٹانا ممکن نہیں۔ بنیادی خسارہ، یعنی سودی ادائیگیوں سے پہلے کا خسارہ، اگر مثبت رہے تو کم از کم یہ امید پیدا ہوتی ہے کہ حکومت اپنی موجودہ آمدنی سے اپنے جاری اخراجات پورے کر رہی ہے۔ بصورت دیگر قرض کا دائرہ وسیع تر ہوتا جاتا ہے۔

قرض کے مسئلے کا حل کسی ایک سال کے بجٹ یا کسی ایک معاشی پیکیج میں پوشیدہ نہیں۔ اس کے لیے طویل المدتی حکمت عملی درکار ہے جس میں ٹیکس اصلاحات، سرکاری اداروں کی نجکاری یا تنظیم نو، توانائی شعبے کی بہتری، اور کاروباری ماحول کی اصلاح شامل ہو۔ جب تک معیشت کی بنیاد مضبوط نہیں ہوگی، قرض محض وقتی سہارا فراہم کرے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قرض کو کھپت کے بجائے سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا جائے تاکہ مستقبل میں آمدنی کے نئے ذرائع پیدا ہوں اور قرض کی خدمت آسان ہو۔

آخرکار، 80 کھرب روپے کا قرض اور 8.9 کھرب روپے کی سودی ادائیگی ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ مالیاتی خودمختاری کا راستہ آسان نہیں۔ اگرچہ اندرونی قرض کا زیادہ ہونا بظاہر بیرونی دباؤ کو کم کرتا ہے، لیکن اس کی اپنی قیمت ہے جو بلند شرح سود اور محدود نجی سرمایہ کاری کی صورت میں ادا کی جاتی ہے۔ اعداد و شمار کی یہ پوری کہانی ہمیں ایک سنجیدہ مکالمے کی دعوت دیتی ہے: کیا ہم قرض کے سہارے معیشت کو چلاتے رہیں گے یا ساختی اصلاحات کے ذریعے اس انحصار کو کم کریں گے؟ فیصلہ آج نہ کیا گیا تو کل کے اعداد شاید اس سے بھی زیادہ بوجھل ہوں گے۔

ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کھرب روپے کی سرمایہ کاری کی ادائیگی کی واپسی ہوتا ہے قرض کی کے لیے قرض کے کا حجم قرض کا

پڑھیں:

پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ

 ملک بھر میں فی تولہ سونےکی قیمت میں 4600 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ایک تولہ سونا 4600 روپے اضافے کے بعد اب 4 لاکھ 76 ہزار 362 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔اس کے علاوہ10گرام سونے کی قیمت3944 روپےبڑھ کر 4 لاکھ8 ہزار 403 روپے ہوگئی ہے۔عالمی بازار میں سونے کی قیمت 46 ڈالر اضافے سے 4540 ڈالر فی اونس ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی کتنی کھالیں جمع ہوئیں؟ اعدادو شمار آگئے
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا