آئی ایم ایف مشن معاشی کارکردگی، اہداف میں پیشرفت کا جائزہ لینے رواں ماہ پاکستان آئے گا
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کے درمیان تیسرے اقتصادی جائزے پر مذاکرات رواں ماہ کے آخری عشرے میں شروع ہوں گے، جس کے لیے آئی ایم ایف جائزہ مشن 25 فروری کو پاکستان کا دورہ کرے گا۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف وفد جولائی تا دسمبر 2025 کےدوران معاشی کارکردگی اور مقررہ اہداف میں پیش رفت کا جائزہ لےگا، مشن کو ٹیکس اصلاحات، توانائی شعبے، مانیٹری پالیسی اور زرمبادلہ کے ذخائر سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔
وزرات خزانہ کے ذرائع نے بتایا کہ پرائمری بجٹ سرپلس، صوبائی کیش سرپلس اور صوبائی ٹیکس ہدف پورا کرلیا گیا جبکہ جولائی تا دسمبر 2025 ٹیکس ہدف پورا نہ ہوسکا، 329 ارب روپے شارٹ فال رہا۔
ذرائع نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 6 ماہ کے دوران 6 ہزار 161 ارب روپے ٹیکس جمع کیا، پاکستان کو 2027 تک مختلف ششماہی جائزوں میں مزید 3.
آئی ایم ایف کو پی آئی اے سمیت نجکاری پروگرام میں پیش رفت سے آگاہ کیا جائے گا، مذاکرات کی کامیابی پر ایگزیکٹیو بورڈ کی منظوری سے پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر ملیں گے، ای ایف ایف پروگرام کے ایک ارب اور کلائمیٹ فنانسنگ کے 20 کروڑ ڈالر کی قسط ملے گی، دونوں پروگرامز کے تحت پاکستان کو اب تک 3.3 ارب ڈالر مل چکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آئی ایم ایف ارب روپے
پڑھیں:
وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافہ اور معیشت کی مجموعی ترقی کے لئے شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لئے صنعت وحرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ صنعتی مصنوعات کی ملکی پیداور اضافے کے ساتھ ساتھ برآمدات بڑھانے کے لیے موٴثر پالیسی اقدامات حکومتی ترجیحات کا حصہ ہیں، صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات کا مقصد طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح ہونا چاہئے۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وزیراعظم نے کہا کہ مستقبل کی توانائی کی ضروریات کو متبادل توانائی کے ذرائع سے پورا کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر بھرپور انداز میں کام ہو رہا ہے، توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کی مختلف شعبوں میں شمولیت کے لئے تمام وزارتیں اور ماہرین کی بامعنی مشاورت کو یقینی بنائیں، موثر ترقیاتی پالیسیز کی تشکیل و نفاذ کے لیۓ تمام وزراتیں باہمی تعاون اور ہم آہنگی سے کام کریں، تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
اجلاس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سی مختلف زیر غور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر پاور ڈیویژن سردار اویس لغاری، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، کے معاون خصوصی ہارون اختر اور ڈائریکٹر جنرل ایس آئی ایف سی میجر جنرل اسد الرحمن چیمہ اور متعلقہ اداروں کے عہدے داران نے شرکت کی۔
مزید :