Jasarat News:
2026-07-24@01:34:22 GMT

مزدور تحریک کے لیے ایک نیا چیلنج؟

اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پنجاب لیبر کوڈ 2025 کو جس انداز میں پنجاب اسمبلی سے منظور کروایا گیا، اس نے جمہوری مشاورت اور شفاف قانون سازی کے عمل پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ قانون انتہائی عجلت اور افراتفری میں چند سیکنڈز میں منظور کیا گیا۔ یورپ اور ہمارے ماحول میں زمین آسمان کا فرق ہے، وہاں قانون اپنی روح کے ساتھ نافذ کیا جاتا ہے، جبکہ ہمارے ہاں قانون اکثر طاقتور طبقے کے مفادات کے مطابق موم کی ناک کی طرح موڑا جاتا ہے۔ قانون کی آڑ میں انصاف کے بجائے استحصال کے راستے نکالے جاتے ہیں۔
جولائی 2025 میں جب معلوم ہوا کہ مجوزہ بل اسمبلی میں پیش ہو چکا ہے اور متعلقہ اسٹینڈنگ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے تو نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان نے پورے پنجاب کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز پر احتجاجی مظاہرے کیے۔ احتجاج کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ مزدور نمائندوں کی تجاویز اور تحریری اعتراضات کو سنجیدگی سے سنا جائے۔
احتجاج کے دوران اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین نے نمائندوں کو بلا کر مؤقف سنا اور یقین دہانی کروائی کہ ورکرز کی مشاورت اور اعتراضات دور کیے بغیر بل منظور نہیں ہوگا۔ مگر بعد ازاں کسی اجلاس میں مزدور نمائندوں کو مدعو نہیں کیا گیا۔ 4 فروری کو اسٹینڈنگ کمیٹی نے بل کی منظوری دی، جہاں صرف ایک مزدور فیڈریشن کی نمائندگی موجود تھی، اور اسی روز اسے اسمبلی سے بھی چند لمحوں میں منظور کروا لیا گیا۔ یہ پورا عمل شفافیت اور اجتماعی مشاورت کے اصولوں سے متصادم محسوس ہوتا ہے۔ اس عمل میں شریک فیڈریشن کو مزدوروں کی عدالت میں پیش ہو کر حساب دینا ہوگا۔ اس قانون پر ہمارے چند ابتدائی اعتراضات و خدشات درج ذیل ہیں۔ ہمارا لیگل امور کا شعبہ اسے دیکھ رہا ہے جملہ تفصیلات واعترضات کا جائزہ لے کر اور ان شاء اللہ العزیز مشاورت سے اس حوالے سے لائحہ عمل طے کیا جائے گا ۔

ہیلتھ اینڈ سیفٹی: بنیادی حق یا منتقل شدہ ذمہ داری؟

سابقہ قانون کے تحت ہیلتھ اینڈ سیفٹی کی بنیادی ذمہ داری واضح طور پر آجر (Employer) پر عائد تھی۔ نئے لیبر کوڈ میں یہ ذمہ داری بڑی حد تک ہیلتھ اینڈ سیفٹی کمیٹی پر منتقل کر دی گئی ہے۔
یہ کمیٹیاں عملی طور پر کمزور اور غیر مؤثر فورم سمجھی جاتی ہیں۔ مزید یہ کہ قانون میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ ورکر خود بھی اپنی صحت اور حفاظت کا ذمہ دار ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ کم اجرت لینے والا مزدور حفاظتی اقدامات کے اخراجات کس طرح برداشت کرے گا؟ ہیلتھ اینڈ سیفٹی ایک بنیادی انسانی حق ہے اور اس کی مکمل ذمہ داری آجر پر ہی ہونی چاہیے۔

ہڑتال اور اجتماعی سودے بازی: مزید پابندیاں
پہلے سے موجود قانون میں بھی ہڑتال کے اختیارات محدود تھے، مگر نئے کوڈ میں انہیں مزید پیچیدہ اور تکنیکی بنا دیا گیا ہے۔ خدشہ ہے کہ قانونی پیچیدگیوں کے باعث مزدور عدالتوں میں اُلجھ جائیں گے اور ہڑتال کا حق عملی طور پر غیر مؤثر ہو جائے گا۔
یونین رجسٹریشن کے لیے کم از کم 10 فیصد ممبرشپ اور CBA بننے کے لیے 33 فیصد ووٹ کی شرط عائد کی گئی ہے۔ اگر یونین کو 33 فیصد سے کم ووٹ ملیں تو وہ صرف اپنے ممبران کی نمائندگی کر سکے گی۔ اس شرط سے اجتماعی سودے بازی کا دائرہ محدود ہونے کا امکان ہے اور یونین سازی کا عمل مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

ٹھیکیداری نظام: استحصال کا تسلسل؟
نئے کوڈ میں تھرڈ پارٹی کنٹریکچوئیل سسٹم کو برقرار رکھا گیا ہے اور ایمپلائمنٹ ایجنسیوں کو قانونی حیثیت فراہم کی گئی ہے۔ ’’Employer‘‘ کی تعریف میں کنٹریکٹر کو شامل کر دینا اس نظام کو مزید مضبوط بناتا ہے۔پہلے ہی عملی طور پر بڑی تعداد میں مزدور کنٹریکچوئیل بنیادوں پر کام کر رہے ہیں اور انہیں بنیادی لیبر حقوق حاصل نہیں ہو پاتے۔ نئے قانون سے خدشہ ہے کہ مستقل روزگار کا تصور مزید کمزور ہوگا اور مزدور غیر یقینی صورتحال کا شکار رہیں گے۔

فکسڈ ٹرم ملازمت: غیر یقینی مستقبل
فل ٹائم، پارٹ ٹائم اور فکسڈ ٹرم کنٹریکٹ جیسی نئی اقسام متعارف کرائی گئی ہیں۔ فکسڈ ٹرم کے تحت کمپنی مخصوص مدت کے لیے ملازم رکھ سکتی ہے اور مدت ختم ہوتے ہی ملازمت خود بخود ختم ہو جائے گی۔
یہ طریقہ کار جاب سیکورٹی کے تصور کو متاثر کر سکتا ہے۔ مستقل روزگار کی جگہ عارضی اور غیر یقینی ملازمتوں کا رجحان بڑھنے کا خدشہ ہے، جس سے مزدور ذہنی دباؤ اور معاشی عدم استحکام کا شکار ہو سکتے ہیں۔

تکنیکی پیچیدگیاں اور قانونی زبان
اسٹینڈنگ آرڈرز اور دیگر متعلقہ قوانین میں تکنیکی نوعیت کی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ قانون کو پیچیدہ قانونی زبان میں تحریر کیا گیا ہے جس کے اثرات کو سمجھنے کے لیے ماہر وکلاء کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ابتدائی ڈرافٹ اور منظور شدہ قانون میں بنیادی تبدیلی واضح طور پر نظر نہیں آتی، جس سے شکوک و شبہات مزید بڑھتے ہیں۔

پلیٹ فارم اور ڈیجیٹل ورکرز کی شمولیت
قانون میں پلیٹ فارم اور ڈیجیٹل ورکرز کو شامل کیا گیا ہے، جو بظاہر ایک مثبت پیش رفت معلوم ہوتی ہے۔ تاہم اگر مؤثر نفاذ نہ ہو سکا تو یہ شمولیت محض رسمی رہ جائے گی، کیونکہ موجودہ قوانین پر بھی مکمل عمل درآمد کا فقدان ہے۔

مجموعی جائزہ
مجموعی طور پر پنجاب لیبر کوڈ 2025 میں پرو مینجمنٹ رجحان نمایاں محسوس ہوتا ہے۔ یونین سازی، ہڑتال اور اجتماعی سودے بازی کے حقوق محدود ہونے کا خدشہ ہے۔ ٹھیکیداری اور فکسڈ ٹرم نظام کے ذریعے مستقل روزگار کا تصور کمزور ہو سکتا ہے۔ قانون کی پیچیدہ ساخت مزدوروں کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس قانون پر وسیع مشاورت، شفاف مکالمہ اور سنجیدہ نظرثانی کی جائے تاکہ مزدوروں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ بصورت دیگر صنعتی تعلقات میں عدم توازن اور مزدور تحریک کی کمزوری کا خدشہ مزید بڑھ جائے گا۔

شمس الرحمن سواتی گلزار

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فکسڈ ٹرم کیا گیا خدشہ ہے ہے اور گیا ہے کے لیے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن