Jasarat News:
2026-06-02@23:41:40 GMT

مزدور تحریک کے لیے ایک نیا چیلنج؟

اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پنجاب لیبر کوڈ 2025 کو جس انداز میں پنجاب اسمبلی سے منظور کروایا گیا، اس نے جمہوری مشاورت اور شفاف قانون سازی کے عمل پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ قانون انتہائی عجلت اور افراتفری میں چند سیکنڈز میں منظور کیا گیا۔ یورپ اور ہمارے ماحول میں زمین آسمان کا فرق ہے، وہاں قانون اپنی روح کے ساتھ نافذ کیا جاتا ہے، جبکہ ہمارے ہاں قانون اکثر طاقتور طبقے کے مفادات کے مطابق موم کی ناک کی طرح موڑا جاتا ہے۔ قانون کی آڑ میں انصاف کے بجائے استحصال کے راستے نکالے جاتے ہیں۔
جولائی 2025 میں جب معلوم ہوا کہ مجوزہ بل اسمبلی میں پیش ہو چکا ہے اور متعلقہ اسٹینڈنگ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے تو نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان نے پورے پنجاب کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز پر احتجاجی مظاہرے کیے۔ احتجاج کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ مزدور نمائندوں کی تجاویز اور تحریری اعتراضات کو سنجیدگی سے سنا جائے۔
احتجاج کے دوران اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین نے نمائندوں کو بلا کر مؤقف سنا اور یقین دہانی کروائی کہ ورکرز کی مشاورت اور اعتراضات دور کیے بغیر بل منظور نہیں ہوگا۔ مگر بعد ازاں کسی اجلاس میں مزدور نمائندوں کو مدعو نہیں کیا گیا۔ 4 فروری کو اسٹینڈنگ کمیٹی نے بل کی منظوری دی، جہاں صرف ایک مزدور فیڈریشن کی نمائندگی موجود تھی، اور اسی روز اسے اسمبلی سے بھی چند لمحوں میں منظور کروا لیا گیا۔ یہ پورا عمل شفافیت اور اجتماعی مشاورت کے اصولوں سے متصادم محسوس ہوتا ہے۔ اس عمل میں شریک فیڈریشن کو مزدوروں کی عدالت میں پیش ہو کر حساب دینا ہوگا۔ اس قانون پر ہمارے چند ابتدائی اعتراضات و خدشات درج ذیل ہیں۔ ہمارا لیگل امور کا شعبہ اسے دیکھ رہا ہے جملہ تفصیلات واعترضات کا جائزہ لے کر اور ان شاء اللہ العزیز مشاورت سے اس حوالے سے لائحہ عمل طے کیا جائے گا ۔

ہیلتھ اینڈ سیفٹی: بنیادی حق یا منتقل شدہ ذمہ داری؟

سابقہ قانون کے تحت ہیلتھ اینڈ سیفٹی کی بنیادی ذمہ داری واضح طور پر آجر (Employer) پر عائد تھی۔ نئے لیبر کوڈ میں یہ ذمہ داری بڑی حد تک ہیلتھ اینڈ سیفٹی کمیٹی پر منتقل کر دی گئی ہے۔
یہ کمیٹیاں عملی طور پر کمزور اور غیر مؤثر فورم سمجھی جاتی ہیں۔ مزید یہ کہ قانون میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ ورکر خود بھی اپنی صحت اور حفاظت کا ذمہ دار ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ کم اجرت لینے والا مزدور حفاظتی اقدامات کے اخراجات کس طرح برداشت کرے گا؟ ہیلتھ اینڈ سیفٹی ایک بنیادی انسانی حق ہے اور اس کی مکمل ذمہ داری آجر پر ہی ہونی چاہیے۔

ہڑتال اور اجتماعی سودے بازی: مزید پابندیاں
پہلے سے موجود قانون میں بھی ہڑتال کے اختیارات محدود تھے، مگر نئے کوڈ میں انہیں مزید پیچیدہ اور تکنیکی بنا دیا گیا ہے۔ خدشہ ہے کہ قانونی پیچیدگیوں کے باعث مزدور عدالتوں میں اُلجھ جائیں گے اور ہڑتال کا حق عملی طور پر غیر مؤثر ہو جائے گا۔
یونین رجسٹریشن کے لیے کم از کم 10 فیصد ممبرشپ اور CBA بننے کے لیے 33 فیصد ووٹ کی شرط عائد کی گئی ہے۔ اگر یونین کو 33 فیصد سے کم ووٹ ملیں تو وہ صرف اپنے ممبران کی نمائندگی کر سکے گی۔ اس شرط سے اجتماعی سودے بازی کا دائرہ محدود ہونے کا امکان ہے اور یونین سازی کا عمل مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

ٹھیکیداری نظام: استحصال کا تسلسل؟
نئے کوڈ میں تھرڈ پارٹی کنٹریکچوئیل سسٹم کو برقرار رکھا گیا ہے اور ایمپلائمنٹ ایجنسیوں کو قانونی حیثیت فراہم کی گئی ہے۔ ’’Employer‘‘ کی تعریف میں کنٹریکٹر کو شامل کر دینا اس نظام کو مزید مضبوط بناتا ہے۔پہلے ہی عملی طور پر بڑی تعداد میں مزدور کنٹریکچوئیل بنیادوں پر کام کر رہے ہیں اور انہیں بنیادی لیبر حقوق حاصل نہیں ہو پاتے۔ نئے قانون سے خدشہ ہے کہ مستقل روزگار کا تصور مزید کمزور ہوگا اور مزدور غیر یقینی صورتحال کا شکار رہیں گے۔

فکسڈ ٹرم ملازمت: غیر یقینی مستقبل
فل ٹائم، پارٹ ٹائم اور فکسڈ ٹرم کنٹریکٹ جیسی نئی اقسام متعارف کرائی گئی ہیں۔ فکسڈ ٹرم کے تحت کمپنی مخصوص مدت کے لیے ملازم رکھ سکتی ہے اور مدت ختم ہوتے ہی ملازمت خود بخود ختم ہو جائے گی۔
یہ طریقہ کار جاب سیکورٹی کے تصور کو متاثر کر سکتا ہے۔ مستقل روزگار کی جگہ عارضی اور غیر یقینی ملازمتوں کا رجحان بڑھنے کا خدشہ ہے، جس سے مزدور ذہنی دباؤ اور معاشی عدم استحکام کا شکار ہو سکتے ہیں۔

تکنیکی پیچیدگیاں اور قانونی زبان
اسٹینڈنگ آرڈرز اور دیگر متعلقہ قوانین میں تکنیکی نوعیت کی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ قانون کو پیچیدہ قانونی زبان میں تحریر کیا گیا ہے جس کے اثرات کو سمجھنے کے لیے ماہر وکلاء کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ابتدائی ڈرافٹ اور منظور شدہ قانون میں بنیادی تبدیلی واضح طور پر نظر نہیں آتی، جس سے شکوک و شبہات مزید بڑھتے ہیں۔

پلیٹ فارم اور ڈیجیٹل ورکرز کی شمولیت
قانون میں پلیٹ فارم اور ڈیجیٹل ورکرز کو شامل کیا گیا ہے، جو بظاہر ایک مثبت پیش رفت معلوم ہوتی ہے۔ تاہم اگر مؤثر نفاذ نہ ہو سکا تو یہ شمولیت محض رسمی رہ جائے گی، کیونکہ موجودہ قوانین پر بھی مکمل عمل درآمد کا فقدان ہے۔

مجموعی جائزہ
مجموعی طور پر پنجاب لیبر کوڈ 2025 میں پرو مینجمنٹ رجحان نمایاں محسوس ہوتا ہے۔ یونین سازی، ہڑتال اور اجتماعی سودے بازی کے حقوق محدود ہونے کا خدشہ ہے۔ ٹھیکیداری اور فکسڈ ٹرم نظام کے ذریعے مستقل روزگار کا تصور کمزور ہو سکتا ہے۔ قانون کی پیچیدہ ساخت مزدوروں کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس قانون پر وسیع مشاورت، شفاف مکالمہ اور سنجیدہ نظرثانی کی جائے تاکہ مزدوروں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ بصورت دیگر صنعتی تعلقات میں عدم توازن اور مزدور تحریک کی کمزوری کا خدشہ مزید بڑھ جائے گا۔

شمس الرحمن سواتی گلزار

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فکسڈ ٹرم کیا گیا خدشہ ہے ہے اور گیا ہے کے لیے

پڑھیں:

ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے۔

راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی نے کہا کہ چاہتے ہیں بانی پی ٹی آئی کا علاج ان کی فیملی اور ذاتی معالج کی موجودگی میں ہو۔

انہوں نے کہا کہ ان کے مقاصد کچھ اور ہیں اس لیے یہ ملنے نہیں دے رہے، مجھے اگر نہیں ملنے دیتے تو کم از کم فیملی کو ملنے دیا جائے۔

بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر

پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) رہنما جنید اکبر نے کہا ہے کہ جس دن بانی پی ٹی آئی محمود اچکزئی سےمطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا سہیل آفریدی وزیراعلیٰ ہوگا تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو بدل نہیں سکتی۔

اُن کا کہنا تھا کہ جب تک بانی پی ٹی آئی کا کوئی نیا پیغام نہیں آئے گا میں ہی وزیراعلیٰ رہوں گا، کے پی میں ہماری حکومت فقط بانی چیئرمین ہی ختم کرسکتے ہیں۔

سہیل آفریدی نے یہ بھی کہا کہ کے پی میں فارورڈ بلاک پروپیگنڈا ہے، جو اس لیے کیا گیا کہ وفاقی بجٹ میں ایک بار پھر عوام کا خون چوسا جائے گا۔

بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی سے ہفتہ وار ملاقات کرادی گئی

اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ہفتہ وار ملاقات کرادی گئی۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے کابینہ سے بجٹ پیپر پاس کرالیا ہے، ہم نے کوئی سرپلس بجٹ نہیں دیا، کے پی حکومت عوام دوست بجٹ پیش کرے گی۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ ہمارا سارا فوکس صحت، تعلیم، زراعت، نوجوان اور جنگلات پر ہے، ہم اپنے بجٹ میں بہت اچھی اور عوام دوست چیزیں لارہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم