Jasarat News:
2026-06-02@22:09:08 GMT

شمس سواتی کا اینٹی نجکاری سیمینار سے خطاب

اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور ،قومی ادارے ہی نہیں اسکول اور اسپتال کی نجکاری کی جا رہی ہے جس سے پوری قوم کا مستقبل داؤ پر لگا دیا گیا ہے۔ پی آئی اے کی نجکاری ماضی کی طرح اپنے خاص لوگوں کو نوازنے کا طریقہ ہے جیسے ماضی میں نجکاری کو جمعہ بازار لگا کر قومی اداروں کو اونے پونے اپنوں کے حوالے کیا گیا۔ بجلی کی کمپنیاں آئیسکو، لیسکو ،فیسکو جو بہت بڑا منافع کماتی ہیں ان کی نجکاری کے پروگرام کا کیا مطلب ہے۔
2006 میں پی ٹی سی ایل کے 26 فیصد شیئر فروخت کیے گئے تھے خریدنے والی غیر ملکی کمپنی اتصالات نے آج تک 8ملین ڈالر کی ادائیگی نہیں کی اور پی ٹی سی ایل کی ہزاروں ڈالر مالیت کی اسٹیبلشمنٹ خطرے میں ہے۔ کالونیوں کو خالی کرایا جا رہا ہے جس کا انہیں کوئی قانونی حق نہیں ہے، اتصالات جو چاہے وہ کر رہی ہے وہ کسی معاہدے کے پابند نہیں ہیں نہ خود کو کسی قانون کا پابند سمجھتے ہیں۔ انہوں نے پی ٹی سی ایل سے روزگار کے ہزاروں مواقع ختم کر دیے اور ہزاروں لوگوں کو یومیہ اجرت پر استحصال کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور انہیں قانون کے مطابق ہر حق سے محروم رکھا جا رہا ہے ۔
اسی طرح آئی پی پیز کو ہزاروں ارب کی ادائیگیاں کیا معنی رکھتی ہیں وہ آئی پی پیز جو بجلی بھی پیدا نہیں کرتے اور جو موجودہ اور سابقہ پولیٹیکل رجیم کی ملکیت ہیں۔انہوں نے کہا کہ انتظامی اخراجات روز بروز بہت بھاری شرح سے بڑھ رہے ہیں۔ اشرافیہ مافیا کی صورت اختیار کر گیا ہے، تمام تر سہولتیں اور عیاشیاں ایک فیصد سے کم مافیا یہ ہیں اور 99 فیصد سے زیادہ عوام کو مسائل کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے، یہ گلا سڑا نظام، یہ فرسودہ اور بیہودہ نظام، یہ ظالمانہ نظام جو صرف ایک فیصد سے کم مافیا کے تحفظ کے لیے اور 99 فیصد عوام کی مشکلات مسائل اور مصائب کا ذریعہ ہے کو بدلنا ہوگا، اس کے لیے ضروری ہے کہ مزدور تحریک ہراوّل دستے کا کردار ادا کرے پاکستان کے ساڑھے 8 کروڑ مزدور جو آبادی کا تیسرا حصہ ہے اور جن کے بچوں پر تعلیم کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں اور جن کے مریضوں پر علاج کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں اور جن کی زندگی کو اجیرن بنا دیا گیا ہے جن سے زندہ رہنے کا حق چھین لیا گیا ہے انہیں اٹھنا ہوگا کھڑا ہونا ہوگا اور ’’بدل دو نظام‘‘ کا نعرہ لگا کر ایک امانت دار، دیانت دار، خدمت گار قیادت کو اقتدار میں لانا ہوگا اور جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور افسر شاہی کے ٹرائیکا کو کہ جس نے نہ صرف پاکستان میں غربت، بے روزگاری، مہنگائی، ظلم نا انصافی میں اضافہ کیا ہے بلکہ پاکستان کے مستقبل کو اور ہماری آئندہ نسلوں کے مستقبل کو تباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزدور تحریک کے وہ لوگ جو عمر کے اس حصے میں ہیںکہ جب ان کے قواہ کام نہیں کر رہے، دیکھنے سننے بولنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکے ہیں اور مزدور کی قیادت سے چمٹے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزدور تحریک کو اتنا نقصان پہنچایا ہے کہ جس کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان لیڈرشپ کے لیے راستہ بنایا جائے اس کی تربیت کی جائے اور ٹریڈ یونین کو مضبوط کیا جائے اور ٹریڈ یونین جو جمہوریت کی نرسری ہے اس میں میرٹ، قواعد و ضوابط، صلاحیت اور اہلیت کو پروان چڑھایا جائے۔ اینٹی نجکاری سیمینار سے این ایل ایف کے سیکرٹری جنرل حسیب الرحمان، محمد امین منہاس، زبیر ملک اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

 

ویب ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے ہیں اور گیا ہے

پڑھیں:

وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی

وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔

جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔

اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔

قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

 

متعلقہ مضامین

  • بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی