محنت کشوں کا حقوق کے لیے احتجاج کرنا آئینی حق ہے، لیاقت ساہی
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈیموکریٹک ورکرز یونین (سی بی اے) اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور بینکنگ سروسز کارپوریشن کے سیکرٹری جنرل لیاقت علی ساہی نے یونین آفس میں ورکرز کے ساتھ انتظامیہ کے ساتھ چارٹر آف ڈیمانڈ2025-27ء پر ہونے والے مذاکرات پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم 2000ء سے مہنگائی کے تناسب سے ورکرز کی تنخواہوں میں اضافہ حاصل کرتے رہے ہیں لیکن اس مرتبہ انتظامیہ طاقت کے بل بوتے پر ورکرز کو ان کے حق سے محروم کرنا چاہتی ہے جسے سی بی اے یونین مسترد کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی بی اے کی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے جائیں گے تاہم احتجاج جو کہ ورکرز کا آئینی اور قانونی حق ہے اس کا بھی آغاز کیا جارہا ہے جب تک ورکرز کو انصاف فراہم نہیں کیا جائے گا۔ مرحلہ وار احتجاج کو آگے بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے بھی نوٹس لینے کا مطالبہ کیا کہ ایس بی پی اور بی ایس سی کی انتظامیہ نے آفیسرز کیڈرز میں تنخواہوں میں اضافہ اور دیگر مراعات اپنے لیے تورات کے اندھیرے میں حاصل کرلی ہیں لیکن ورکرز جس کا تعلق پسے ہوئے طبقے سے ہے، ان کی تنخواہوں میں اضافے اور دیگر درپیش مسائل جو چارٹر آف ڈیمانڈ میں سی بی اے یونین نے پیش کی ہیں ہیں ان پر غیر ضروری تاخیری حربے استعمال کرکے محنت کشوں کے حقوق کو سلب کرنے کے مترادف ہے۔ علاوہ ازیں اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور بینکنگ سروسز کارپوریشن میں کلریکل اور نان کلریکل کیڈرز میں مستقل بھرتیوں کے بجائے کنٹریکٹ اور تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ پر مستقل پوسٹوں پر بھرتیاں کرنا ایمپلائمنٹ اسٹینڈنگ آرڈر1968ء کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ اس پر پارلیمنٹ اپنے مرتب کردہ قوانین پر عمل درآمد کروا کر محنت کشوں کو انصاف فراہم کرے۔ سی بی اے یونین محنت کشوں کے حقوق کے حصول کے لیے مذاکرات کے ساتھ ساتھ احتجاج کا آغاز بھی کر رہی ہے اور محنت کشوں کے ساتھ ہونے والی انصافیوں اور لیبر قوانین کی خلاف ورزیوں پر ریاست کے تمام فورم پر آواز اْٹھائی جائے گی۔ انہوں نے ملک بھر کی ٹریڈ یونین ، صحافی، سول سوسائٹی کی تنظیموں سے اسٹیٹ بینک اور بینکنگ سروسز کارپوریشن کے محنت کشوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف اظہار یکجہتی کی بھی اپیل کی ہے اور پارلیمنٹرین سے بھی نوٹس کا مطالبہ کیا ہے سی بی اے یونین کے فیصلوں کو ملک بھر کے تمام دفاترکے محنت کشوں کی بھرپور تائید حاصل ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سی بی اے یونین محنت کشوں کے اسٹیٹ بینک ا کے ساتھ اور بی
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔