data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جرمنی کے شہر مونیخ میں منعقدہ 62 ویں مونیخ سکیورٹی کانفرنس کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے “مونیخ سرکس” قرار دیا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے یورپی یونین اور چند یورپی ممالک کی ایران کے ساتھ پالیسیوں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے  کہا کہ کانفرنس میں عملی اقدامات کے بجائے محض دکھاوا زیادہ ترجیح دیا گیا۔

عراقچی نے کہا کہ  یہ زوال اہم پیغامات رکھتا ہے کیونکہ یورپی یونین ایران کے داخلی حالات کو سمجھنے میں ناکام اور الجھی ہوئی نظر آتی ہے، یورپ کی اس غیر واضح حکمت عملی نے اس کی خطے میں جغرافیائی سیاسی حیثیت کو ختم کر دیا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر جرمنی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ برلن نے خطے میں اپنی پالیسی مکمل طور پر اسرائیل کے حوالے کر دی ہے۔

انہوں نے یورپ کے وسیع منظرنامے کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے  کہا کہ یورپی ممالک کی غیر فعال صورتحال ایران کے جوہری پروگرام پر جاری مذاکرات میں بھی ظاہر ہو رہی ہے،ایک وقتی اہم ثالث کی حیثیت رکھنے والا یورپ اب کہیں نظر نہیں آ رہا جبکہ ایران کے خطائی شراکت دار زیادہ مؤثر اور مددگار ثابت ہوئے ہیں۔

واضح رہےکہ  ایران کو اس سال کی کانفرنس میں مدعو نہیں کیا گیا۔ منتظمین نے کہا کہ حکومت مخالف مظاہرین پر حالیہ کریک ڈاؤن کے بعد ایران کے ساتھ بات چیت کا یہ وقت مناسب نہیں ہے، کانفرنس میں ایران کے سابق شاہ محمد رضا پہلوی کے بیٹے رضا پہلوی کو خطاب کرنے کا موقع ملا، جس میں انہوں نے امریکا اور اسرائیل سے ایران کے خلاف مداخلت کا مطالبہ کیا۔

کانفرنس میں سخت سیکیورٹی اور تنظیمی اقدامات کیے گئے ہیں، جو موجودہ عالمی سیاسی ماحول کی حساسیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ 29 ستمبر کو یورپی یونین نے 2015 کے جوائنٹ کمپریہنسو پلان آف ایکشن (JCPOA) کے تحت ایران پر نوکری پابندیاں دوبارہ عائد کیں، جس میں بینکنگ، توانائی، شپنگ، انشورنس اور حساس اشیاء کی تجارت پر محدودیت شامل ہے۔ ایران نے اس فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ اقدامات مذاکراتی عمل کو مزید نقصان پہنچائیں گے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کانفرنس میں ایران کے کہا کہ

پڑھیں:

مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال

سٹی 42 : نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے مصر کے وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی کا ٹیلیفونک رابطہ ہوا ۔ 

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔ اسحاق ڈار اور مصر کے وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی کی جانب سے امن اور استحکام کے فروغ کے لیے مسلسل سفارتی روابط کی ضرورت پر زور دیا گیا ۔  

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین نے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا ۔ 

لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز

متعلقہ مضامین

  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی