ونٹر انٹرن شپ پروگرام، گوادر، کوئٹہ کے طلباء کا نیول بیس کا دورہ، ڈی جی آئی ایس پی آر کے لاہور میں تعلیمی اداروں کے دورے
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
لاہور(این این آئی+آئی این پی) پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے لاہور میں ایچی سن کالج، یونیورسٹی آف انجنیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اور لاہور کالج فار وومین یونیورسٹی کا دورہ کیا۔اس موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر کی طلباء اور اساتذہ کیساتھ خصوصی نشستوں کا اہتمام بھی کیا گیا، نشست کے دوران قومی سلامتی، نوجوانوں کے کردار ، جدید دور میں متفرق چیلنجز اور ہائبرڈ وار فیئر پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔تعلیمی اداروں کے سربراہان، اساتذہ اور طلباء نے افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار کیا۔اس موقع پر اساتذہ کا کہنا تھا کہ جس دن ملک کو ضرورت پیش آئی تمام اساتذہ اور طلباء دفاع کیلئے فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے، ڈی جی آئی ایس پی آر کی موجودہ چیلنجز سے متعلق گفتگو نوجوانوں کیلئے انتہائی اہمیت کی حامل رہی ہے ۔طلباء نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی گفتگو سے تمام طلباء کو جدید دور کی فکری جنگ کو سمجھنے میں مدد ملی ہے، پاک فوج کا تعلیمی اداروں سے براہِ راست رابطہ نوجوانوں میں اعتماد اور شعور کیلئے اہم اقدام ہے طلباء نے دشمن کیخلاف متحد رہنے اور افواجِ پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں پر فخر کا اظہار کیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامعہ (آئی ایس پی آر)کے تحت جاری ونٹر انٹرن شپ پروگرام کے سلسلے میں ملک بھر میں نوجوانوں کی قومی تربیت کا عمل جاری ہے۔آئی ایس پی آر انٹرن شپ پروگرام کے تحت گوادر کے طلبا نے گوادر نیول بیس اور میرین ٹریننگ سینٹر کا دورہ کیا، دورے کا مقصد شرکا کو زمینی حقائق، میری ٹائم سیکیورٹی چیلنجز اور پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے آگاہ کرنا تھا۔اس موقع پر طلبا نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایس پی آر کی جانب سے براہ راست سیشنز اور نیول بیس کے مطالعاتی دوروں کا انعقاد نہایت مثبت اقدام ہے۔طلبا کے مطابق ایسے پروگرام کتابی علم کو عملی تجربے سے جوڑنے اور دفاعی اداروں کی صلاحیتوں کو قریب سے سمجھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، ونٹر انٹرن شپ پروگرام میں کوئٹہ کی مختلف جامعات کے بھی 150 طلبا و طالبات کو شوٹنگ رینج اور پاکستان گیلری کا دورہ بھی کروایا گیا۔طلبا نے آئی ایس پی آر کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے پاک فوج کا شکریہ ادا کیا، طلبا نے مستقبل میں بھی اس نوعیت کے معلوماتی اور تربیتی پروگراموں کے تسلسل کی امید کا اظہار کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ڈی جی ا ئی ایس پی ا ر انٹرن شپ پروگرام آئی ایس پی آر کا دورہ پاک فوج
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔