کچھ لوگوں نے صوبہ بنانے کی بات کی‘ انہیں کہتا ہوں چپ کر کے بیٹھ جاؤ: وزیراعلیٰ سندھ
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
کراچی (سٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ کچھ لوگوں نے صوبہ بنانے کی بات کی ہے، انہیں کہتا ہوں چپ کرکے بیٹھ جاؤ۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ متحد رہے گا، اگر تم سندھ توڑنے کا سوچتے ہو تو تم پاکستان کے لیے نہیں سوچتے۔ بلدیاتی اداروں کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں، وزیراعظم کا یہ کام نہیں کہ وہ گلی میں گٹر کے ڈھکن لگائے۔ مراد علی شاہ نے کراچی کے علاقے ملیر میں خالدبن ولید فلائی اوورکا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے میئر کراچی کو 100 روز میں پل بنانے کا چیلنج دیا تھا، اب انہیں عظیم پورہ فلائی اوور بنانے کا ایک اورچیلنج دے رہاہوں۔ کراچی کو وہ سٹرکچر فراہم کریں گے جس کا وہ حقدار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔