کچھ لوگوں نے پھر صوبہ بنانے کی بات کی ہے‘ انہیں کہتا ہوں چپ کرکے بیٹھ جاؤ‘ وزیر اعلیٰ سندھ
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260216-08-22
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ کل بھی کچھ لوگوں نے صوبہ بنانے کی بات کی ہے، انہیں کہتاہوں چپ کرکے بیٹھ جاؤ۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ متحد رہے گا، اگر تم سندھ توڑنے کا سوچتے ہو تو تم پاکستان کے لیے نہیں سوچتے۔ وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ بلدیاتی اداروں کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں، وزیراعظم کا یہ کام نہیں کہ وہ گلی میں گٹر کے ڈھکن لگائے۔ مراد علی شاہ نے کراچی کے علاقے ملیر میں خالدبن ولید فلائی اوورکا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے میئر کراچی کو 100 روز میں پل بنانے کا چیلنج دیا تھا، اب انہیں عظیم پورہ فلائی اوور بنانے کا ایک اورچیلنج دے رہاہوں۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی کو وہ اسٹرکچر فراہم کریں گے جس کا وہ حقدار ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ بوری بند لاشیں دینے والوں کو کراچی سے کھلواڑ کا اختیار نہیں ملے گا۔انہوں نے کہا کہ سندھ نے پاکستان بنایا، ورغلانے والے سن لیں، سندھ کے باسی کسی کے ورغلانے میں نہیں آئیں گے۔ سید مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ رواں سال 300 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے ہوں گے، بڑے منصوبے کریں یا ٹاؤنز کو براہ راست پیسے دیں، آئیں بلدیاتی اداروں کو مضبوط کریں۔ اس سے قبل میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وزیراعلیٰ سندھ کو منصوبے سے متعلق بریفنگ دی اور بتایا کہ 682 میٹر لمبائی اور 20.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مراد علی شاہ نے وزیر اعلی نے کہا کہ
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔