پی ٹی آئی کے اہم رہنما نے سینیٹ کی نشست سے استعفیٰ دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)پی ٹی آئی رہنما مراد سعید نے سینیٹ کی نشست سے استعفیٰ دے دیا ہے اور اس حوالے سے اپنا استعفیٰ سینیٹ آف پاکستان کے چیئرمین کے نام خط کے ذریعے بھجوا دیا ہے۔
جوڈیشل کمپلیکس حملہ ، مراد سعید سمیت 3 پی ٹی آئی رہنما اشتہاری قرار ، متعدد کے وارنٹ گرفتاری
استعفے کے متن میں مراد سعید نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ موجودہ پارلیمنٹ کی بنیاد جعلی اور ناجائز ہے اور یہ پارلیمنٹ عوام کے مینڈیٹ کی توہین میں کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں پارٹی کو سخت فیصلے کرنے چاہئیں اور فوری طور پر پارلیمانی نظام سے الگ ہونے پر غور کرنا چاہیے۔
مراد سعید نے اپنی قیادت کو مشورہ دیا ہے کہ سینیٹ کے ساتھ ساتھ دیگر قانون ساز اداروں سے بھی یک مشت استعفے دیے جائیں تاکہ عوامی مینڈیٹ کے حوالے سے واضح سیاسی پیغام دیا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے پارٹی کو سینیٹ سمیت قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے اجتماعی استعفوں کی تجویز دی ہے۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے مراد سعید کے سینیٹ سے استعفے کی تصدیق کر دی ہے۔
مراد سعید اسلام آباد میں نظر آیا تو پکڑنے سے کس نے روکا تھا ؟ بیرسٹر سیف
واضح رہے کہ مراد سعید 2025 میں سینیٹر منتخب ہوئے تھے تاہم انہوں نے اب تک بطور سینیٹر حلف نہیں اٹھایا تھا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس استعفے کے بعد ملکی سیاست میں نئی بحث شروع ہونے کا امکان ہے جبکہ اپوزیشن اور حکومتی حلقوں کی جانب سے بھی ردعمل متوقع ہے ۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے پارلیمانی سیاست پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جبکہ آنے والے دنوں میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔