مراد سعیدکاسینیٹ سے مستعفی ہونے کا اعلان، پی ٹی آئی کو اجتماعی استعفوں کا مشورہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما مراد سعید نے سینیٹ کی نشست سے استعفیٰ دے دیا اور اپنا استعفیٰ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کو بھجوا دیا۔ پارٹی کے سرکاری اکاؤنٹ پر جاری بیان میں انہوں نے صوبائی اسمبلیوں، سینیٹ اور دیگر قانون ساز اداروں سے فوری اجتماعی استعفوں کا مطالبہ بھی کیا۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی آنکھوں کے علاج کا معاملہ: ایمبولینس اڈیالہ جیل پہنچ گئی، میڈیکل رپورٹ بھی ارسال
میڈیا رپورٹ کے مطابق اپنے خط میں مراد سعید نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ پارلیمان عوامی مینڈیٹ کی توہین پر قائم ہے اور آئین پر حلف اٹھانے کے باوجود اس کی اصل روح کو مسخ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’منتخب اور حقیقی وزیر اعظم‘ کے بنیادی حقوق کا مطالبہ کرنے والے ارکانِ اسمبلی کو ہی احتجاج پر قید کیا جا رہا ہے، اسی لیے وہ بطور احتجاج استعفیٰ دے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ مراد سعید جولائی 2025 میں خیبر پختونخوا سے سینیٹر منتخب ہوئے تھے تاہم روپوشی کے باعث حلف نہیں اٹھا سکے تھے۔ ان کا استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں سیاسی کشیدگی عروج پر ہے۔
دوسری جانب حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو، جو اس وقت قید اور علیل ہیں، اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ان کی صحت کے پیش نظر انہیں اسپتال منتقل کر کے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے گا۔
اس سے قبل وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ بانی پی ٹی آئی کا مزید معائنہ اور علاج ماہر امراض چشم کی زیر نگرانی خصوصی طبی مرکز میں کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان کے لیے الشفا آئی ٹرسٹ اسپتال میں 10 کمرے مختص، ڈاکٹروں کے نام بھی سامنے آگئے
یہ پیشرفت اس وقت ہوئی جب عمران خان کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ جیل میں ان کی دائیں آنکھ کی 85 فیصد بینائی متاثر ہو چکی ہے، جس کے بعد پارٹی کارکنوں نے ملک کے مختلف حصوں میں احتجاج کیا۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت انسانی ہمدردی اور قانونی تقاضوں کو ترجیح دیتی ہے اور ہر قیدی کو قانون کے مطابق سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے مفصل رپورٹ سپریم کورٹ میں بھی جمع کرائی جائے گی اور قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔
تاہم پاکستان تحریک انصاف نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بانی چیئرمین کو خاندان اور ذاتی معالجین کی موجودگی کے بغیر اسپتال منتقل نہ کیا جائے۔ پارٹی ترجمان نے مطالبہ کیا کہ طبی معائنہ کم از کم ایک اہلِ خانہ کی موجودگی میں کیا جائے اور کسی بھی خفیہ یا یکطرفہ اقدام کے نتائج کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
استعفی پی ٹی آئی عمران خان مراد سعید مراد سعید استعفیٰ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: استعفی پی ٹی ا ئی مراد سعید استعفی کیا جائے کہا کہ
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔