آتشزدگی کے واقعات قابل افسوس ‘حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں گیا‘نچندایسرانی
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) صوبائی دارالحکومت کراچی میں سال 2026ء کے پہلے مہینے کے دوران آتشزدگی کے 225واقعات رپورٹ ہوئے جس نے شہر میں آگ لگنے کے بڑھتے ہوئے خطرات پر تشویش پیدا کر دی ہے۔محکمہ بحالی سندھ کے زیر اہتمام ریسکیو 1122 کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں آگ لگنے کے واقعات کے نتیجے میں مجموعی طور پر 83 افراد جاں بحق ہوئے جن میں2 بچے اور8 خواتین شامل ہیں جبکہ 24 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری امدادی کارروائیوں کے ذریعے طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔ مشیر وزیر اعلیٰ سندھ برائے محکمہ بحالی گیانچند ایسرانی کا کہنا ہے کہ شہر کا سب سے بڑا افسوسناک اور خطرناک واقعہ ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں پیش آیا جہاں شدید آگ کے باعث متعدد افراد عمارت میں پھنس گئے ۔ مشیر وزیراعلی سندھ برائے بحالی گیانچمد ایسرانی نے بڑھتے ہوئے آتشزدگی کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انسانی جانوں کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور تمام متعلقہ اداروں کو ہنگامی ردعمل مزید موثر بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ شہری، تاجر برادری اور عمارتوں کے منتظمین آگ سے بچائو کے انتظامات کو یقینی بنائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔