پروگریسو اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا تعلیم بچائو مارچ کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)پروگریسو اسٹوڈنٹس فیڈریشن سندھ نے حیدرآباد میں ’’تعلیم بچاؤ سندھ بچاؤ‘‘ کے نعرے کے تحت طلبہ مارچ کا انعقاد کیا۔ مارچ سٹی گیٹ سے شروع ہوا اور تلک چڑی، حیدر چوک سے ہوتا ہوا حیدرآباد پریس کلب پہنچا۔ مارچ میں طلبہ رہنماؤں اور مختلف طلبہ تنظیموں کے طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر پروگریسو اسٹوڈنٹس فیڈریشن سندھ کے زبیر آزاد نے کہا کہ آج کا سیو ایجوکیشن، سیو سندھ مارچ مطالبہ کرتا ہے کہ طلبہ یونینز پر پابندی ختم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ یونین صرف طلبہ کا جمہوری حق نہیں، طلبہ کو لکھنے اور بولنے کی آزادی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سابق آمر ضیاء الحق کے دور میں طلبہ یونینز کو دبایا گیا، جس کو 42 سال ہوچکے ہیں، لیکن طلبہ یونینز بحال نہیں ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمران طلبہ کی اجتماعی سیاسی طاقت سے خوفزدہ ہیں۔ لیکن اب یہ کاغذی شیر طلبہ کو ان کے بنیادی حق سے زیادہ دیر تک محروم نہیں رکھ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے طلباء متحد ہو کر اپنی تعلیم بچائیں، سندھ بھی بچائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے تقریباً 64 لاکھ بچے تعلیمی اداروں سے باہر ہیں اور 17 لاکھ بچے مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ جب کہ تقریباً 6,400 اسکولوں میں چھتیں نہیں ہیں، انہوں نے کہا کہ تقریباً 6,000 اسکولوں میں بنیادی سہولیات نہیں ہیں اور 12,000 سے زیادہ اسکولوں میں اساتذہ نہیں ہیں، اور 18,500 سے زیادہ اسکولوں میں صرف ایک استاد ہے۔ سیکریٹری علی غلام نے کہا کہ یونیورسٹی میں انتہا پسندی کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے اور طلبہ کو یونیورسٹی میں اسٹڈی سرکل چلانے کی بھی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سندھ اور اس کے وسائل کو تب ہی بچا سکیں گے جب ہم اپنی تعلیم کو بچائیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ طلبہ یونین کو بحال کرکے طلبہ کے تمام مسائل حل کیے جائیں۔ جساف آریسر کے رہنما علی رضا بروہی نے کہا کہ خود کو جمہوریت کی چیمپیئن کہنے والی پیپلز پارٹی نے ہمیشہ طلبہ کے خلاف فیصلے کیے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ اسکولوں میں
پڑھیں:
سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں، ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔