فیریئر ہال میں قدیم گاڑیوں کی بہار، 102 سالہ رولز رائس توجہ کا مرکز
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
شہرِ قائد کے تاریخی مقام فیریئر ہال میں ونٹیج اور کلاسیک گاڑیوں کی شاندار نمائش منعقد ہوئی، جس میں 1924 سے لے کر 2000 تک کے ماڈلز کی 120 سے زائد نایاب گاڑیاں پیش کی گئیں۔
نمائش کی سب سے بڑی کشش نواب آف بہاولپور کی 1924 رولز رائس سلور گھوسٹ تھی، جس نے اس سال اپنی عمر کی سنچری (102 سال) مکمل کی۔ یہ وہی تاریخی گاڑی ہے جسے بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے 14 اگست 1947 کو سندھ اسمبلی کی تقریبِ آزادی میں شرکت کے لیے استعمال کیا تھا۔
نمائش میں دنیا بھر کے مختلف ممالک (امریکا، یورپ، جرمنی اور جاپان) کی تیار کردہ شاہکار گاڑیاں موجود تھیں، جن میں 1926 کی شیورلیٹ سپیریئر (Chevrolet Superior) اور 1926 کی آسٹن سیون چمی (Austin Seven Chummy) شامل ہیں۔
دیگر نایاب گاڑیوں میں 1938 رولز رائس ریتھ، 1941 کیڈیلک، 1952 ایم جی ٹی ڈی، اور 1966 آسٹن مارٹن شامل ہیں۔ فورڈ مسٹینگ، پورشے، بی ایم ڈبلیو اور مختلف مرسڈیز بینز ماڈلز بھی شہریوں کی توجہ کا مرکز رہے۔
اینٹیک کارز میوزیم کے بانی شعیب قریشی نے کہا کہ اس نمائش کا مقصد پاکستان میں آٹوموبائل ورثے کے تحفظ کو فروغ دینا اور دنیا کو پاکستان کا مثبت امیج دکھانا ہے۔ پاکستان میں ابھی تک کوئی باقاعدہ فزیکل کار میوزیم نہیں ہے، اس لیے ایسی نمائشیں لوگوں کو تاریخ کے ان شاہکاروں کو قریب سے دیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔
نمائش میں نہ صرف مرد بلکہ خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ نوجوانوں نے نایاب گاڑیوں کے ساتھ سیلفیاں بنائیں اور مالکان سے ان گاڑیوں کی بحالی اور انجن کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ گاڑیوں کے مالکان کا کہنا تھا کہ ان پرانی گاڑیوں کو اصل حالت میں برقرار رکھنا ایک مہنگا اور صبر آزما شوق ہے، لیکن یہ ان کے لیے ایک جنون کی حیثیت رکھتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک