ہم نے ابتدا میں پیٹرول بائیکس کی تیاری سے کام شروع کیا، لیکن وقت کے ساتھ مارکیٹ میں اچانک بڑی تبدیلی آئی۔ اس تبدیلی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے سب سے پہلے ’الیکٹرک بائیک‘ متعارف کروائی۔ الحمدللہ الیکٹرک بائیک کو مارکیٹ سے بہت اچھا ردِعمل ملا اور لوگوں نے ہم پر اعتماد کے ساتھ کام کیا۔

اس کے بعد ہم نے ’الیکٹرک اسکوٹی‘ کی طرف قدم بڑھایا۔ اسکوٹی میں جو سہولت اور سیکیورٹی ہوتی ہے، اسے مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے مختلف ماڈلز لانچ کیے، اور اب تک 6 سے 7 مختلف ماڈلز متعارف کرا چکے ہیں۔

اس وقت پاکستان میں الیکٹرک اسکوٹی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ہماری کمپنی ’روڈ کنگ ای وہیکل‘ کے تحت پاکستان بھر میں نیٹ ورک کام کر رہا ہے، جس میں تقریباً 150 سے 200 پوائنٹس فعال ہیں۔ خاص طور پر بلوچستان سے ہمیں سب سے زیادہ مثبت ریسپانس ملا، جہاں ہماری مارکیٹ بہت مضبوط رہی ہے۔

حکومتی سطح پر بھی الیکٹرک وہیکلز کے فروغ کے لیے بہترین کام ہو رہا ہے۔ حکومت عوام میں آگاہی پیدا کر رہی ہے اور اس حوالے سے مختلف پروجیکٹس بھی شروع کیے جا رہے ہیں۔ بعض معاملات میں لوکل سیلز سے زیادہ سپورٹ حکومت کی جانب سے ملی ہے، کیونکہ حکومت چاہتی ہے کہ یہ سہولت ہر فرد تک پہنچے۔

الیکٹرک اسکوٹی ماحول کے لیے بھی بہت فائدہ مند ہے۔ اس سے نہ صرف پیٹرول پر انحصار کم ہوتا ہے بلکہ ماحول صاف رہتا ہے، اور عوام کی بڑی بچت بھی ہوتی ہے۔ اس کی مینٹیننس نہایت کم ہے، جو صارفین کے لیے ایک بڑا فائدہ ہے۔

ایک بار مکمل چارج کرنے پر اسکوٹی 100 سے 150 کلومیٹر تک چل جاتی ہے، جو روزمرہ استعمال کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ اس پروڈکٹ کا سب سے پہلا اور سب سے مثبت ردِعمل طلبہ (اسٹوڈنٹس) کی جانب سے آیا۔

جہاں تک تیاری کے عمل کا تعلق ہے، تو سب سے پہلے فریم تیار کیا جاتا ہے، اس کے بعد بیٹری نصب کی جاتی ہے، پھر باڈی اسٹرکچر مرحلہ وار لگایا جاتا ہے۔ آخر میں PDI (فائنل انسپیکشن) کی جاتی ہے تاکہ معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ عمل بظاہر آسان لگتا ہے، لیکن اصل چیلنج معیار کو برقرار رکھنا ہے، خاص طور پر جب ماڈلز میں مسلسل تبدیلی آ رہی ہو۔ تقریباً 30 کے قریب مزدور ایک پروڈکشن لائن میں کام کرتے ہیں۔ اگر ایک اسکوٹی الگ سے تیار کی جائے تو اس میں 30 سے 40 منٹ لگتے ہیں، جبکہ لائن پر کام کرنے کی صورت میں اسی وقت میں ایک مکمل اسکوٹی تیار ہو جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: الیکٹرک اسکوٹی جاتی ہے کے لیے

پڑھیں:

طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا