ٹرمپ حکومت میں پابندیوں لگانے والے شعبے کے سربراہ کا استعفیٰ
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے ذرائع نے بتایا کہ وزارتِ خزانہ میں دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس کے امور کے نائب وزیر ہرلی کا استعفیٰ امریکی پابندیوں کی پالیسی کے طریقۂ کار اور اہداف پر مہینوں سے جاری داخلی اختلافات کے بعد سامنے آیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اطلاعاتی ذرائع کے مطابق ٹرمپ حکومت میں پابندیوں کے شعبے کے سربراہ نے امریکی وزیرِ خزانہ سے اختلافات کے باعث استعفیٰ دے دیا ہے۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے بینالاقوامی گروپ کے مطابق جان ہرلی، جو ٹرمپ انتظامیہ میں پابندیوں سے متعلق ایک اعلیٰ عہدیدار تھے، امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسٹ کے ساتھ تناؤ کے باعث اپنے عہدے سے کنارہ کشی اختیار کرنے والے ہیں۔ امریکی خبر رساں ویب سائٹ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے ذرائع نے بتایا کہ وزارتِ خزانہ میں دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس کے امور کے نائب وزیر ہرلی کا استعفیٰ امریکی پابندیوں کی پالیسی کے طریقۂ کار اور اہداف پر مہینوں سے جاری داخلی اختلافات کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان کے آئندہ کردار کے بارے میں ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، تاہم بعض حکومتی عہدیدار مختلف سفارتی عہدوں کی پیشکش کے ذریعے انہیں حکومت کے ڈھانچے میں ایک وفادار اتحادی کے طور پر برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا