ٹرمپ حکومت میں پابندیوں لگانے والے شعبے کے سربراہ کا استعفیٰ
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے ذرائع نے بتایا کہ وزارتِ خزانہ میں دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس کے امور کے نائب وزیر ہرلی کا استعفیٰ امریکی پابندیوں کی پالیسی کے طریقۂ کار اور اہداف پر مہینوں سے جاری داخلی اختلافات کے بعد سامنے آیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اطلاعاتی ذرائع کے مطابق ٹرمپ حکومت میں پابندیوں کے شعبے کے سربراہ نے امریکی وزیرِ خزانہ سے اختلافات کے باعث استعفیٰ دے دیا ہے۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے بینالاقوامی گروپ کے مطابق جان ہرلی، جو ٹرمپ انتظامیہ میں پابندیوں سے متعلق ایک اعلیٰ عہدیدار تھے، امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسٹ کے ساتھ تناؤ کے باعث اپنے عہدے سے کنارہ کشی اختیار کرنے والے ہیں۔ امریکی خبر رساں ویب سائٹ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے ذرائع نے بتایا کہ وزارتِ خزانہ میں دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس کے امور کے نائب وزیر ہرلی کا استعفیٰ امریکی پابندیوں کی پالیسی کے طریقۂ کار اور اہداف پر مہینوں سے جاری داخلی اختلافات کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان کے آئندہ کردار کے بارے میں ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، تاہم بعض حکومتی عہدیدار مختلف سفارتی عہدوں کی پیشکش کے ذریعے انہیں حکومت کے ڈھانچے میں ایک وفادار اتحادی کے طور پر برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔