فیلڈ مارشل کی امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرات، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورس (CDF) نے 12 سے 14 فروری تک جرمنی کا دورہ کیا جہاں انہوں نے 62ویں میونخ سیکیورٹی کانفرنس کے موقع پر مختلف اہم ملاقاتوں میں شرکت کی۔
فیلڈ مارشل اور سی ڈی ایف نے متعدد عالمی شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔
انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور، عالمی و علاقائی سیکیورٹی صورتحال اور انسداد دہشت گردی میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
جرمن حکام کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران فیلڈ مارشل اور سی ڈی ایف نے وفاقی جمہوریہ جرمنی کے وفاقی وزیر داخلہ مسٹر الیگزینڈر ڈوبرنڈٹ، جرمن چانسلر کے خارجہ و سلامتی پالیسی کے مشیر مسٹر گنٹر ساٹر اور وفاقی مسلح افواج کے چیف آف ڈیفنس جنرل کارسٹن بریور سے ملاقات کی۔
ان ملاقاتوں میں عصری سیکیورٹی چیلنجز، دوطرفہ دفاعی تعاون اور عالمی امن و استحکام کے فروغ کے لیے دوطرفہ و کثیرالجہتی مکالمے کی اہمیت پر گفتگو کی گئی۔
مزید برآں، چیف آف آرمی اور سی ڈی ایف نے برازیلین مسلح افواج کے چیف آف جوائنٹ اسٹاف ایڈمرل ریناٹو روڈریگز ڈی اگوئیار فریرے کے ساتھ بھی مفید ملاقات کی جس میں دوطرفہ عسکری تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
لبنان کی مسلح افواج کے کمانڈر جنرل روڈولف ہیکل نے بھی فیلڈ مارشل اور سی ڈی ایف سے ملاقات کی۔ اس موقع پر عالمی و علاقائی سیکیورٹی صورتحال اور دوطرفہ دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے کے اقدامات پر بات چیت کی گئی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل اور سی ڈی ایف فیلڈ مارشل سے ملاقات ملاقات کی چیف آف
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
گلگت: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں. امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں. جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں. میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں. گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے.
قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ انہیں کون سمجھائے کہ بھٹو کے 70ء کے دور میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں سے پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہاں ایک پروفیسر یہ کہہ کر خوش ہورہا ہے کہ یہاں سو میگا واٹ بجلی دینا میرے داہنے ہاتھ کا کام ہے، اگر داہنے ہاتھ کا کام ہے تو کیا کیوں نہیں؟ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اپنی بجلی پیدا کریں گے اور اسلام کو فروخت کریں گے.پروفیسر کو فروخت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔