کٹھوعہ میں کنٹرول لائن کے قریب دو ماہ کے لیے شہریوں کی نقل و حرکت پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
اس فیصلے نے کنٹرول لائن کے قریبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے جنہیں امن و امان برقرار رکھنے کے نام پر اکثر چھاپوں، تلاشیوں اور فوجی آپریشنز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں قابض حکام نے ضلع کٹھوعہ میں کنٹرول لائن کے قریب پانچ کلومیٹر کے دائرے میں 60 دنوں کے لیے شہریوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق ضلع مجسٹریٹ کٹھوعہ راجیش شرما نے یہ پابندیاں حساس سکیورٹی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے لگائی ہیں۔ اس فیصلے نے کنٹرول لائن کے قریبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے جنہیں امن و امان برقرار رکھنے کے نام پر اکثر چھاپوں، تلاشیوں اور فوجی آپریشنز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حکمنامے کے مطابق پرانی سانبہ کٹھوعہ سڑک پر رات 9بجے سے صبح 6بجے تک ٹرک، ٹپر اور ملٹی ایکسل گاڑیوں سمیت بھاری گاڑیوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ یہ حکمنامہ 14 فروری سے فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا اور یہ 60 دنوں تک نافذ رہے گا۔ ضلع مجسٹریٹ نے کہا کہ ہنگامی صورتحال کی وجہ سے پیشگی اطلاع نہیں دی جا سکی۔ کسی بھی خلاف ورزی پر بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 223 کے تحت تعزیری کارروائی کی جائے گی۔
دریں اثناء بھارتی فوجیوں نے ڈوڈہ اور کشتواڑ کے علاقوں میں چھاپوں، تلاشیوں اور پوسٹر مہمات سمیت اپنی کارروائیوں کا سلسلہ مزید تیز کر دیا ہے۔ضلع ڈوڈہ میں بھارتی پولیس نے حساس مقامات پر مجاہدین کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے پوسٹر چسپاں کیے ہیں۔ ڈوڈہ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سندیپ مہتا نے بتایا کہ ٹھاٹھری اور ملحقہ جنگلاتی علاقوں میں کئی دنوں سے تلاشی کارروائیاں جاری ہیں اور فورسز ہائی الرٹ پر ہیں۔ بھارتی فورسز نے گندوہ میں چلی کے جنگلات میں ایک خفیہ ٹھکانہ تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ڈوڈہ، کشتواڑ، کٹھوعہ، ادھم پور، راجوری اور پونچھ اضلاع میں حالیہ ہفتوں میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد بڑے پیمانے پرفوجی آپریشن جاری ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ کنٹرول لائن کے علاقوں میں چھاپہ مار کارروائیوں اور تلاشیوں کے ساتھ ساتھ اس طرح کی طویل پابندیوں سے معمولات زندگی درہم برہم ہو کر رہتے ہیں اور مقامی لوگوں کو پہلے سے درپیش مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کنٹرول لائن کے علاقوں میں
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔