اس فیصلے نے کنٹرول لائن کے قریبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے جنہیں امن و امان برقرار رکھنے کے نام پر اکثر چھاپوں، تلاشیوں اور فوجی آپریشنز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں قابض حکام نے ضلع کٹھوعہ میں کنٹرول لائن کے قریب پانچ کلومیٹر کے دائرے میں 60 دنوں کے لیے شہریوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق ضلع مجسٹریٹ کٹھوعہ راجیش شرما نے یہ پابندیاں حساس سکیورٹی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے لگائی ہیں۔ اس فیصلے نے کنٹرول لائن کے قریبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے جنہیں امن و امان برقرار رکھنے کے نام پر اکثر چھاپوں، تلاشیوں اور فوجی آپریشنز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حکمنامے کے مطابق پرانی سانبہ کٹھوعہ سڑک پر رات 9بجے سے صبح 6بجے تک ٹرک، ٹپر اور ملٹی ایکسل گاڑیوں سمیت بھاری گاڑیوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ یہ حکمنامہ 14 فروری سے فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا اور یہ 60 دنوں تک نافذ رہے گا۔ ضلع مجسٹریٹ نے کہا کہ ہنگامی صورتحال کی وجہ سے پیشگی اطلاع نہیں دی جا سکی۔ کسی بھی خلاف ورزی پر بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 223 کے تحت تعزیری کارروائی کی جائے گی۔

دریں اثناء بھارتی فوجیوں نے ڈوڈہ اور کشتواڑ کے علاقوں میں چھاپوں، تلاشیوں اور پوسٹر مہمات سمیت اپنی کارروائیوں کا سلسلہ مزید تیز کر دیا ہے۔ضلع ڈوڈہ میں بھارتی پولیس نے حساس مقامات پر مجاہدین کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے پوسٹر چسپاں کیے ہیں۔ ڈوڈہ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سندیپ مہتا نے بتایا کہ ٹھاٹھری اور ملحقہ جنگلاتی علاقوں میں کئی دنوں سے تلاشی کارروائیاں جاری ہیں اور فورسز ہائی الرٹ پر ہیں۔ بھارتی فورسز نے گندوہ میں چلی کے جنگلات میں ایک خفیہ ٹھکانہ تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ڈوڈہ، کشتواڑ، کٹھوعہ، ادھم پور، راجوری اور پونچھ اضلاع میں حالیہ ہفتوں میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد بڑے پیمانے پرفوجی آپریشن جاری ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ کنٹرول لائن کے علاقوں میں چھاپہ مار کارروائیوں اور تلاشیوں کے ساتھ ساتھ اس طرح کی طویل پابندیوں سے معمولات زندگی درہم برہم ہو کر رہتے ہیں اور مقامی لوگوں کو پہلے سے درپیش مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کنٹرول لائن کے علاقوں میں

پڑھیں:

آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار

آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔

یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔

بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔

اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔

شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار