شام نے شمال مشرقی علاقے سے ایک اور امریکی اڈا خالی کرا لیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
شام کی وزارتِ دفاع نے اتوار کو اعلان کیا کہ اس نے شمال مشرقی علاقے میں واقع الشددادی فوجی اڈا امریکی افواج سے سنبھال لیا ہے۔ یہ پیش رفت چند روز قبل اردن اور عراق کی سرحد کے قریب ایک اور تنصیب کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔
وزارت کے بیان کے مطابق، شامی عرب فوج کی افواج نے امریکی فریق سے ہم آہنگی کے بعد حسکہ کے دیہی علاقے میں الشددادی فوجی اڈے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
امریکی اتحاد اور داعش کے خلاف کارروائیاںالشددادی قصبے کے باہر قائم اس اڈے پر امریکی افواج تعینات تھیں، جو شدت پسند تنظیم داعش کے خلاف بین الاقوامی اتحاد کا حصہ تھیں۔ اسی قصبے میں ایک جیل بھی موجود تھی جہاں کرد فورسز نے جہادی تنظیم کے ارکان کو قید کر رکھا تھا، تاہم گزشتہ ماہ حکومتی افواج کی پیش قدمی کے بعد صورت حال تبدیل ہو گئی۔
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب امریکا نے جمعرات کو تصدیق کی تھی کہ اس کی افواج نے اردن اور عراق کی سرحد کے قریب واقع التنف اڈا بھی خالی کر دیا ہے۔
کرد فورسز اور بدلتی امریکی حکمتِ عملیکرد قیادت میں قائم سیرین ڈیموکریٹک فورس (ایس ڈی ایف) امریکا کی زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد کی اہم شراکت دار رہی ہے اور 2019 میں شام میں داعش کی علاقائی شکست میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔
تاہم دسمبر 2024 میں طویل عرصے تک برسراقتدار رہنے والے بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد امریکا نے دمشق کی نئی حکومت سے تعلقات میں پیش رفت کی ہے اور حال ہی میں عندیہ دیا ہے کہ کرد اتحاد کی ضرورت بڑی حد تک کم ہو چکی ہے۔
اگرچہ داعش کی علاقائی شکست ہو چکی ہے، مگر تنظیم اب بھی سرگرم ہے۔
امریکی فضائی حملے جارییونائیٹڈ اسٹیٹس سنٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ہفتے کے روز بتایا کہ اس کی افواج نے رواں ماہ شام میں داعش کے 30 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا۔
بیان کے مطابق، 3 سے 12 فروری کے درمیان کیے گئے فضائی حملوں میں داعش کے ’انفراسٹرکچر اور اسلحہ ذخیرہ کرنے کے مقامات‘ کو نشانہ بنایا گیا۔
واشنگٹن کا محتاط اطمینانمارکو روبیو نے اتوار کو براتسلاوا کے مختصر دورے کے دوران کہا کہ امریکا شام کی صورتحال کے ’رخ‘ سے مطمئن ہے، جہاں حکومت نے کرد اقلیتی گروہوں کے ساتھ مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔
روبیو کا کہنا تھا، ’کچھ دن ایسے بھی آئے جو تشویشناک تھے، لیکن ہمیں موجودہ سمت پسند ہے۔ ہمیں اسے اسی راستے پر برقرار رکھنا ہوگا۔ ہمارے اچھے معاہدے موجود ہیں۔‘
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ شامی حکام اور کرد اقلیت کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد آسان نہیں ہوگا۔
ان کے مطابق، حکومت کو دروز، بدوؤں اور علوی برادری سمیت شام کے متنوع معاشرتی عناصر کے ساتھ بھی ایسے ہی معاہدے کرنا ہوں گے۔
خطے میں نئی صف بندیاںامریکی اڈوں کی واپسی اور شامی افواج کی پیش قدمی خطے میں طاقت کے توازن میں اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ نئی شامی حکومت داخلی مفاہمت، سلامتی اور انسدادِ دہشتگردی کی حکمتِ عملی کو کس طرح آگے بڑھاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الشددادی فوجی اڈا داعش شام.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کے مطابق کی افواج داعش کے کے بعد
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔