پاکستانی اے آئی اسٹارٹ اپ کی عالمی کامیابی، امریکی کمپنی نے “ورچوئنز” خرید لیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: ایس آئی ایف سی کی معاونت سے پاکستان کے ابھرتے ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کو عالمی سطح پر نمایاں پذیرائی مل رہی ہے اور اسی سلسلے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ایک امریکی ٹیکنالوجی کمپنی نے پاکستانی مصنوعی ذہانت (اے آئی) اسٹارٹ اپ ورچوئنز کو لاکھوں ڈالر مالیت کے معاہدے کے تحت خرید لیا۔
اسٹارٹ اپ کے بانی راحیل احمد نے اس پیش رفت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی نوجوانوں کی تکنیکی صلاحیتیں عالمی معیار کی ہیں اور مقامی ٹیلنٹ بین الاقوامی سطح پر جدید ٹیکنالوجی تخلیق کر کے بڑی کمپنیوں کی توجہ حاصل کر رہا ہے،اس معاہدے سے نہ صرف کمپنی کو وسعت ملے گی بلکہ پاکستانی انجینئرز اور ڈیویلپرز کو عالمی منصوبوں پر کام کرنے کے مواقع بھی میسر آئیں گے۔
ماہرینِ معیشت اور آئی ٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں پاکستان میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، اسٹارٹ اپ پالیسیوں اور سرمایہ کاری کے ماحول میں نمایاں بہتری آئی ہے جس کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ خاص طور پر اے آئی، فِن ٹیک، سائبر سکیورٹی اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے شعبوں میں پاکستانی کمپنیوں کی کارکردگی نے عالمی مارکیٹ میں مثبت تاثر قائم کیا ہے۔
حکام کے مطابق ایس آئی ایف سی کے تحت کیے گئے اصلاحاتی اقدامات، سرمایہ کاری سہولت کاری، اور ریگولیٹری آسانیوں نے ٹیک سیکٹر کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی کمپنیوں کی جانب سے پاکستانی اسٹارٹ اپس کے ساتھ شراکت داری اور حصول کے معاملات میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسٹارٹ اپ
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔