نوشہرو فیروز : ٹریفک حادثے میں ایک ہی خاندان کے 6 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
ویب ڈیسک:نوشہرو فیروز کے قریب قومی شاہراہ پر تیز رفتار کار اور ٹریلر کے درمیان شدید تصادم کے نتیجے میں کار میں سوار چھ افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب کار لاڑکانہ سے کراچی کی جانب جا رہی تھی۔
ابتدائی معلومات کے مطابق جاں بحق ہونے والے تمام افراد کا تعلق سولنگی برادری سے بتایا جا رہا ہے۔
حادثے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کار مکمل طور پر تباہ ہو گئی جبکہ ٹریلر سڑک کے کنارے جا رکا۔
ناکوں پر بدتمیزی کا کلچر ختم ؛وزیراعلیٰ پنجاب کی پولیس صلاحات کیلئے 3 ماہ کی ڈیڈ لائن مقرر
مقامی افراد نے فوری طور پر امدادی سرگرمیاں شروع کیں اور متعلقہ اداروں کو اطلاع دی۔
ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور لاشوں کو گاڑی سے نکال کر ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینس کے ذریعے نوشہرو فیروز کے سرکاری ہسپتال منتقل کیا گیا۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق تمام افراد کو مردہ حالت میں لایا گیا۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد لاڑکانہ سے کراچی جا رہے تھے۔
پاک، بھارت میچ سے قبل اوپنر ابھیشیک شرما کا اہم ویڈیو بیان آگیا
حادثے کے بعد کچھ دیر کے لیے قومی شاہراہ پر ٹریفک کی روانی متاثر رہی، جسے پولیس کی مدد سے بحال کر دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔