بھارت کا فرانس سے مزید 31 رافیل لڑاکا طیارے خریدنے کا منصوبہ، مجموعی تعداد 145 ہونے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میلیٹرنی کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے فرانس سے مزید 31 رافیل کیریئر بیسڈ لڑاکا طیارے خریدنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔
اس سے قبل بھارت کے MRFA پروگرام کے تحت 114 طیاروں کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، جبکہ بھارتی بحریہ کے لیے اضافی جدید طیارے شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ریلائنس ڈیفنس اور ہندوستان ایروانٹکس لمیٹڈ اس منصوبے میں پروڈکشن پارٹنرز ہوں گے، اور رافیل طیاروں کے کچھ فریم بھارت میں تیار کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ فرانس کی جانب سے جدید AASM ہتھیاروں اور بعض اہم اجزا کی تیاری کے حقوق بھی منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔
اگر یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو بھارت کے مجموعی طور پر آرڈر کیے گئے رافیل طیاروں کی تعداد 145 ہو جائے گی۔ اس سے قبل 2016 میں بھارت نے ڈسالٹ ایوی ایشن کے ساتھ 36 طیاروں کی خریداری کا 7.
بعد ازاں 2025 میں بھارتی بحریہ کے لیے 26 رافیل ایم لڑاکا طیاروں کا آرڈر دیا گیا تھا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق نئے معاہدے سے بھارت کی فضائی اور بحری دفاعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔