کراچی(نیوز ڈیسک)ایم کیو ایم پاکستان میں انتشار سر چڑھ کر بولنے لگا، ہفتے کی شب لیاقت آباد کے عوامی اجتماع نے ایم کیو ایم کو واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم کردیا، لیاقت آباد کے اجتماع میں صرف پی ایس پی سے ایم کیو ایم میں ضم ہونے والے رہنما ئوں نے خطاب کیا،جبکہ چیئر مین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی جانب سے کوئی رہنما اس میں شریک نہیں ہوا،اہم حلقوں کی جانب سے دونوں گروپ کو سخت پیغام دیا جاچکا ہے کہ اختلافات صرف زبان کی حد تک ہونے چاہئے، سوشل میڈیا پر بھی کار کنان دو حصوں میں دکھائی دے رہے ہیں، سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی مہم میں ایک جانب کہا جارہا ہے کہ پارٹی کو بچانا ہے، مخبروں کو بھگانا ہے، چیئر مین صرف خالد مقبول تو دوسری جانب یہ مہم چل رہی ہے کہ ون مین شو نہیں چلے گا، انٹرا پارٹی الیکشن کرائے جائیں،اسی گروپ کے کار کنان اور رہنما مخالفینپر پیپلز پارٹی کی بی ٹیم ہونے کے الزامات لگا رہے، سنیئر رہنما انیس قائم خانی نے واضح طور پر کہا ہے کہ ایم کیو ایم ایک ہے،کارکنوں کو پی ایس پی اور ایم کیو ایم کے نام پر لڑانے کی اجازت نہیں دی جائے، بعض لوگ اپنی کرپشن اور فائدے کے لئے اس قسم کا پرو پیگنڈہ کررہے ہیں، ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی جمال احمد نے ایک وڈیو انٹرویو میں کہا ہے ان لوگوں کو اپنے علاوہ کوئی پسند نہیں، نہ خالد مقبول، فاروق ستار اور نہ ہی امین الحق، اسی صورت حال کے تناظر میں ایم کیو ایم کے بہادر آباد رہنمائوں کا دعوی ہے کہ سینیٹ میں مکمل جبکہ قومی ، اور صوبائی اسمبلی میں منتخب نمائندوں کی بڑی اکثریت ہمارے ساتھ کھڑی ہے، یونٹ کی سطح پر 90فیصد کار کنان ہمارےساتھ ہیں، ایم کیو ایم کی تقسیم اب زبان زد عام ہوچکی ہے، تاہم اہم حلقوں کی جانب سے دونوں گروپ کو سخت پیغام دیا جاچکا ہے کہ اختلافات صرف زبان کی حد تک ہونے چاہئے،امن کی صورت میں قانون حرکت میں آئے گا،موجودہ سورت حال میں کار کنوں میں بد دلی نمایاں دکھائی دے رہی ہے،جبکہ کراچی کے سیاسی حلقوں میں بھی دس سال کی طویل جدوجہد کے باوجود ماضی جیسی عوامی پذیرائی حاصل نہ کرنے ایم کیو ایم کا انتشار اور اختلاف موضوع بحث ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ایم کیو ایم ایم کی

پڑھیں:

بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان

اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔

سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔

حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔

سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔

اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔

متعلقہ مضامین

  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان