برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر بچوں کے تحفظ کیلئے آن لائن قوانین سخت کرنے کے خواہاں
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ بچوں کو ڈیجیٹل خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے آن لائن رسائی کو ریگولیٹ کرنے کے مزید اختیارات درکار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی اور آن لائن خطرات کے پیش نظر قوانین کو جدید تقاضوں کے مطابق بنانا ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ بچوں کی مؤثر حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
خبرایجنسی کے مطابق برطانوی حکومت نے حال ہی میں بعض مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارمز کے خلاف اقدامات کیے ہیں، جبکہ مزید اے آئی چیٹ بوٹس کو بھی ایسے مواد، خصوصاً جنسی نوعیت کی تصاویر بنانے سے روکنے کے لیے سخت ضوابط کے دائرے میں لانے کا منصوبہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ نئے اختیارات پارلیمنٹ میں زیر غور جرائم اور بچوں کے تحفظ سے متعلق قانون میں ترمیم کے ذریعے شامل کیے جائیں گے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بچوں کو آن لائن استحصال اور نقصان دہ مواد سے محفوظ رکھنا اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو زیادہ ذمہ دار بنانا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: آن لائن
پڑھیں:
ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔