کیا سلمان خان کی وجہ سے راجپال یادیو جیل سے باہر آئے؟ وائرل ویڈیو کی حقیقت سامنے آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
بھارتی اداکار راجپال یادیو سے متعلق سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ گردش کر رہا ہے کہ وہ سلمان خان کی مدد سے جیل سے باہر آئے ہیں، تاہم اس سے متعلق سامنے آنے والی تفصیلات نے وائرل خبر کی حقیقت واضح کر دی ہے۔
یہ افواہ اُس وقت پھیلی جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں راجپال یادیو سلمان خان کو اپنا بڑا بھائی قرار دیتے ہوئے کہتے دکھائی دیے کہ سلمان بھائی بڑے بھائی کی طرح ہیں، ان کے ساتھ بیٹھ کر مجھے بہت خوشی محسوس ہوتی ہے، انڈسٹری میں ایسے لوگ بہت کم ہیں، وہ ہمیشہ دوسروں کے لیے کھڑے ہوتے ہیں، میں نے گزشتہ 20 برسوں میں سلمان بھائی کے ساتھ مسلسل 10 سے 12 فلمیں کی ہیں۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد یہ تاثر دیا گیا کہ سلمان خان نے راجپال یادیو کو قانونی مشکلات سے نکالنے میں مدد کی ہے، تاہم سوشل میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کلپ 8 سال پرانا ہے اور اس کا ان کے موجودہ قانونی معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔
اداکار کے منیجر گولڈی کے مطابق متعدد شوبز شخصیات نے ان سے رابطہ کیا ہے جن میں اجے دیوگن اور ہدایت کار ڈیوڈ دھون بھی شامل ہیں۔
تاحال سلمان خان کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: راجپال یادیو
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔