اسلام آباد ہائیکورٹ کی نیشنل ہائی وے اتھارٹی میں ڈیپوٹیشن تعیناتیوں پر شدید تنقید
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) میں ڈیپوٹیشن افسران کی تعیناتیوں کے خلاف کیس کی سماعت کی، اور عدالت نے این ایچ اے کو ہدایت کی کہ وہ اپنے افسران کی تعیناتی کا تفصیلی پلان حکومت کے سامنے پیش کرے۔
مزید پڑھیں: این ایچ اے کا قومی شاہراہوں کے اطراف تجارتی سرگرمیوں کو ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ
عدالت نے حکم دیا کہ این ایچ اے میں ڈیپوٹیشن پر تعیناتیوں کا مکمل ریکارڈ 15 روز میں عدالت میں جمع کروایا جائے۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ہدایت پر عمل نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ستمبر میں ہم نے حکم جاری کیا، اس پر کیوں عمل درآمد نہیں ہوا؟
انہوں نے ریمارکس دیے کہ پسند نا پسند اور اقربا پروری ہوتی جارہی ہے، من پسند تعیناتیاں ہو رہی ہیں۔ لوگ منافع دیکھ کر تعیناتیاں اور فیصلے کر رہے ہیں۔ پہلے سی ڈی اے حکومت کھا گیا، اب این ایچ اے وہی کام کر رہا ہے۔ہمارے حکم پر عمل کرنے والے چیئرمین کو ہٹا دیا گیا کیونکہ وہ عمل درآمد کر رہا تھا۔ یہ حرکت کرنے والوں کو جا کر بتا دیں، ہم ایکشن لیں گے۔
مزید پڑھیں: این ایچ اے کی جانب سے ایک بار پھر ٹول ٹیکس میں اضافہ، نئی شرح کیا ہے؟
چیف جسٹس نے کہا کہ ایسے ادارے کرپشن کا گھڑ بن چکے ہیں اور ایسے لوگ تعینات کیے جاتے ہیں جو کام نہیں ہونے دیتے۔
درخواست گزار کی جانب سے وکیل علی نواز کھرل جبکہ این ایچ اے کی جانب سے وکیل سردار تیمور اسلم پیش ہوئے۔ عدالت نے ہدایات کے ساتھ کیس کی سماعت 2 ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد ہائیکورٹ این ایچ اے ڈیپوٹیشن تعیناتیاں نیشنل ہائی وے اتھارٹی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد ہائیکورٹ این ایچ اے نیشنل ہائی وے اتھارٹی ایچ اے
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔