مجرموں کو شادی میں مدعو کرنا اور ان کے ساتھ تصاویر بنوانا مہنگا پڑ گیا، پولیس کانسٹیبل ملازمت سے برطرف
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
راجستھان پولیس کے ایک کانسٹیبل کو اپنی شادی کی تقریب میں مبینہ طور پر خطرناک اور مطلوب ملزمان کی شرکت پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کے بعد حکام نے فوری طور پر محکمانہ کارروائی عمل میں لائی۔
برطرف کیے جانے والے کانسٹیبل اشوک بشنوئی ضلع جھالاواڑ میں تعینات اسپیشل ٹیم کا حصہ تھے۔ ان کی شادی ناگور میں منعقد ہوئی جہاں راجستھان اور مدھیہ پردیش سے تعلق رکھنے والے متعدد مبینہ جرائم پیشہ افراد نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: بسم اللہ پڑھ کر رشوت لینے والا پولیس اہلکار گرفتار، نوکری سے برطرف
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بعض افراد دلہے کے ہمراہ تصاویر بنوا رہے ہیں اور تقریب کے دوران نوٹ نچھاور کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق تقریب میں شریک افراد میں ایسے نام بھی شامل تھے جو مختلف سنگین مقدمات میں مطلوب یا زیرِ تفتیش رہے ہیں جن میں منشیات اور اسلحہ اسمگلنگ سے متعلق کیسز بھی شامل ہیں۔ بعض افراد کو متعلقہ اضلاع کی ’ٹاپ ٹین‘ فہرستوں میں بھی شامل کیا جا چکا ہے۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر ضلع جھالاواڑ کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے محکمانہ انکوائری کا حکم دیا۔ ابتدائی تحقیقات کے بعد کانسٹیبل کو فوری طور پر ملازمت سے برخاست کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: برفباری سے مری کی سڑکیں بند، اسلام آباد پولیس کا سیاحوں کے لیے ٹریفک الرٹ جاری
سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کا کہنا تھا کہ ’وردی کے وقار اور محکمہ پولیس کی ساکھ پر کسی قسم کا سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا‘۔ پولیس حکام کے مطابق معاملے کی تفصیلی تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ مذکورہ اہلکار اور جرائم پیشہ عناصر کے درمیان روابط کی نوعیت اور حد کیا تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈیا پولیس کانسٹیبل مجرم مجرم کے ساتھ تصاویر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انڈیا پولیس کانسٹیبل مجرم کے ساتھ تصاویر پولیس کا
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔