راولپنڈی پولیس کی بڑی کارروائی، منشیات فروشوں سے روابط پر اے ایس آئی ملازمت سے برطرف
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
راولپنڈی پولیس کی بڑی کارروائی، منشیات فروشوں سے روابط پر اے ایس آئی ملازمت سے برطرف WhatsAppFacebookTwitter 0 16 February, 2026 سب نیوز
راولپنڈی (نمائندہ خصوصی) راولپنڈی پولیس نے خود احتسابی کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے منشیات فروشوں سے مبینہ روابط ثابت ہونے پر اے ایس آئی محمد اختر کو ملازمت سے برخاست کر دیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق مذکورہ اہلکار کے خلاف کچھ عرصے سے شکایات موصول ہو رہی تھیں، جن کی بنیاد پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق اے ایس آئی محمد اختر نے اپنی ملازمت کا ایک بڑا حصہ چکوال میں گزارا، جہاں ان کے طرزِ عمل کے حوالے سے بھی مختلف شکایات سامنے آتی رہی تھیں۔ تقریباً دو سال قبل ان کا تبادلہ راولپنڈی کر دیا گیا، تاہم ذرائع کے مطابق وہاں بھی ان کی سابقہ روش برقرار رہی، جس پر محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ محکمہ میں احتساب کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی جو محکمہ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا باعث بنیں۔
دریں اثنا عوامی حلقوں نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ اہلکار کے اثاثہ جات کی بھی چھان بین کی جائے اور اسی نوعیت کے دیگر معاملات میں ملوث اہلکاروں کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ شہریوں نے امید ظاہر کی کہ پنجاب پولیس جرائم پیشہ عناصر سے روابط رکھنے والے اہلکاروں کے خلاف اسی طرح بلاامتیاز کارروائی جاری رکھے گی تاکہ عوام کا اعتماد مزید مستحکم ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرفضائی طاقت اب صرف جنگ تک محدود نہیں،ایئر مارشل (ر) آصف سلیمان فضائی طاقت اب صرف جنگ تک محدود نہیں،ایئر مارشل (ر) آصف سلیمان جہلم: انجینئر محمد علی مرزا پر مبینہ قاتلانہ حملہ کرنے والا شخص گرفتار ٹی 20ورلڈ کپ،پاکستانی بیٹنگ لائن فلاپ ، بھارت نے 61رنز سے عبرتناک شکست دیدی وفاقی حکومت نے گریڈ 20کے پولیس افسر کیپٹن (ر)ملک لیاقت علی کو آزاد کشمیر پولیس کا آئی جی تعینات کردیا ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ، بھارت نے پاکستان کو جیت کیلئے 176رنز کا ہدف دیدیا موٹروے پولیس کی ایمانداری کی مثال، گمشدہ 53لاکھ تلاش کر کے مالک کے حوالے کر دیے گئےCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اے ایس آئی
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔