پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں دباؤ جاری، 100 انڈیکس 2 ہزار پوائنٹس گر گیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کے روز فروخت کے دباؤ کے نتیجے میں100 انڈیکس تقریباً 2,000 پوائنٹس گر گیا۔ دن کے دوران ساڑھے 11 بجے کے قریب انڈیکس 177,637.21 پوائنٹس پر رہا، جو 1,966.52 پوائنٹس یا 1.09 فیصد کمی ظاہر کرتا ہے۔
اہم شعبوں بشمول آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، تیل و گیس کی کھوج کرنے والی کمپنیاں، OMCs، پاور جنریشن اور ریفائنری میں فروخت دیکھی گئی۔ بڑے انڈیکس والے اسٹاکس جیسے ریڈ زون میں ٹریڈ ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے: اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، انڈیکس میں 1,500 سے زائد پوائنٹس کی کمی
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ہفتے کو اعلان کیا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف جلد تعمیراتی شعبے کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان کریں گے۔ وزیر نے مزید بتایا کہ حکومت پراپرٹی سیکٹر کے لیے ٹیکس کی شرح میں کمی پر غور کر رہی ہے اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے اگلے 10 سے 12 دنوں میں ریلیف پیکج پیش کیا جائے گا۔
گزشتہ ہفتے بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کا دباؤ رہا، جس کی بنیادی وجہ سیاسی غیر یقینی صورتحال اور خاص طور پر بلوچستان میں بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال تھی، جس نے سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر کیا۔ اس کے باوجود کچھ معاون میکرو اکنامک عوامل اور مضبوط بیرونی سرمایہ کاری کے اثرات محدود رہے۔ 100 انڈیکس ہفتے کے اختتام پر 179,603.
یہ بھی پڑھیے: اسٹاک ایکسچینج شدید مندی کا شکار، ابتدائی گھنٹوں میں انڈیکس 1100 پوائنٹس نیچے
عالمی مارکیٹ میں، ایشیائی شیئرز پیر کو معمولی دباؤ کے ساتھ مستحکم رہے کیونکہ تعطیلات کے باعث تجارتی حجم کم رہا اور جاپان سے آنے والے خراب اقتصادی اعداد و شمار نے مارکیٹ کی تیزی پر اثر ڈالا۔ چین، جنوبی کوریا، تائیوان اور امریکا میں بھی مارکیٹ میں معمولی دباؤ رہا، جس کے باعث کرنسی، اجناس اور بانڈز مستحکم رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
pakistan stock exchange پاکستان اسٹاک ایکسچینج مارکیٹ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان اسٹاک ایکسچینج مارکیٹ پاکستان اسٹاک ایکسچینج اسٹاک ایکسچینج میں کے لیے
پڑھیں:
خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار---فائل فوٹونائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔