تعلیمی اداروں میں چکن نگٹس، فرائز اور میٹھے مشروبات سمیت دیگر اشیا پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
ابو ظہبی کے اسکولوں میں بچوں کے لیے صحت مند خوراک یقینی بنانے کے لیے نئے قوانین جاری کر دیے گئے ہیں۔ ڈیپارٹمنٹ آف ایجوکیشن اینڈ نالج نے اسکولوں میں ممنوعہ کھانے اور مشروبات کی فہرست شائع کی ہے۔ یہ قوانین اسکول میں فراہم کیے جانے والے کھانے اور گھر سے لائے گئے کھانوں دونوں پر لاگو ہوں گے۔
قوانین کے مطابق اسکول کے لنچ باکس میں میٹھے مشروبات، زیادہ چکنائی یا شکر والے کھانے، پراسیسڈ اشیاء، مصنوعی ایڈٹیوز اور کچھ ڈیری و سویابین مصنوعات شامل نہیں ہونی چاہئیں۔ اس کے علاوہ اسکولوں کو چاہیے کہ وہ والدین کو خوراک سے متعلق فیصلوں میں شامل کریں اور قوانین پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے مخصوص عملہ مقرر کریں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کے سرکاری اسکولوں میں بچوں کے لیے مفت کھانا
اسکولوں میں ممنوعہ کھانوں اور مشروبات کی فہرست:میٹھے مشروبات: شکر والے مشروبات، سیرپ والے جوس، سافٹ ڈرنکس، انرجی یا اسپورٹس ڈرنکس (سوائے مخصوص آئسوٹونک ڈرنکس کے)
کیفین والے مشروبات: کافی اور چائے (گرم یا آئسڈ)
زیادہ میٹھے کھانے: کینڈی، چاکلیٹ (سوائے ڈارک چاکلیٹ کے)، مارشمیلو، لالی پاپ، آئس کریم، فلیورڈ یا میٹھا دودھ و دہی۔
یا تلے ہوئے کھانے: فرائیڈ چکن، چکن نگٹس، فلافل، سموسے، آلو یا مکئی کے اسنیکس، پراسیسڈ گوشت، اچار۔
یہ بھی پڑھیں: بھاری بھرکم غذائیں کھانا دماغ پر کیا اثر ڈالتا ہے؟
پراسیسڈ اور مصنوعی کھانے: مصنوعی رنگ، ذائقے یا کیمیکل والے کھانے، ، مخصوص فوڈ ایڈٹیوز، تیار شدہ سوسز جیسے کیچپ یا رینچ۔
دیگر ممنوعہ اشیاء: سور کا گوشت یا مشتقات، الکوحل والے کھانے، ہائیڈروجنیٹڈ فیٹس، 12 ماہ سے کم بچوں کے لیے شہد، انپاسچرائزڈ خوراک، سویابین مصنوعات، گری دار میوے، اور وہ کھانے جو بچوں کے لیے چبانے یا نگلنے میں خطرہ ہیں۔
پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والے قانونی کارروائی اور جرمانوں کے تابع ہوں گے۔ ڈیپارٹمنٹ آف ایجوکیشن اینڈ نالج کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ وہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں ادارے پر فوری کارروائی کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ابو ظہبی اسکول میں کھانا دبئی فاسٹ فوڈ متحدہ عرب امارات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسکول میں کھانا فاسٹ فوڈ متحدہ عرب امارات اسکولوں میں بچوں کے لیے والے کھانے
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔