ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: نیوزی لینڈ کے اہم فاسٹ بولر ٹورنامنٹ ادھورا چھوڑ کر وطن واپس روانہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کو ایک غیرمتوقع مگر خوشگوار وجہ کی بنا پر اپنے اہم فاسٹ بولر لوکی فرگوسن کی خدمات سے عارضی طور پر محروم ہونا پڑ گیا ہے، جو ذاتی وجوہات کے باعث ٹورنامنٹ ادھورا چھوڑ کر وطن واپس روانہ ہو گئے ہیں۔
ٹیم مینجمنٹ کے مطابق لوکی فرگوسن منگل کو کینیڈا کے خلاف کھیلے جانے والے گروپ مرحلے کے آخری میچ میں شرکت نہیں کر سکیں گے کیونکہ انہیں اپنے گھر میں پہلے بچے کی ولادت کے موقع پر اہلِ خانہ کے ساتھ موجود رہنے کے لیے خصوصی اجازت دی گئی ہے، کیوی فاسٹ بولر اس اہم اور یادگار لمحے کو اپنی اہلیہ ایما کے ساتھ گزارنے کے لیے فوری طور پر وطن واپس جا رہے ہیں۔
نیوزی لینڈ کے ہیڈ کوچ روب والٹر نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ فرگوسن اور ان کی اہلیہ کے لیے زندگی کے نہایت قیمتی لمحات ہیں اور ٹیم انتظامیہ اس بات پر خوش ہے کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ اس موقع پر موجود ہوں گے۔\
ہیڈ کوچ روب والٹر نے کہا کہ کرکٹ سے بڑھ کر بھی زندگی میں کئی اہم ذمہ داریاں ہوتی ہیں، اور کھلاڑیوں کی ذاتی خوشیوں کا احترام کرنا ٹیم کلچر کا حصہ ہے۔
کوچ نے امید ظاہر کی کہ لوکی فرگوسن سپر ایٹ مرحلے کے آغاز سے قبل دوبارہ ٹیم کو جوائن کر لیں گے، تاہم ان کی غیرموجودگی میں اسکواڈ میں کائل جیمنسن کو شامل کیے جانے کا امکان ہے، جو رفتار اور اچھال کی بدولت ٹیم کے بولنگ اٹیک کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ لوکی فرگوسن نیوزی لینڈ کے تیز ترین بولرز میں شمار ہوتے ہیں اور ان کی عدم دستیابی ٹیم کے لیے ایک وقتی دھچکا ضرور ہے، تاہم ٹیم مینجمنٹ پُرامید ہے کہ متبادل کھلاڑی ذمہ داری نبھاتے ہوئے ٹیم کی کارکردگی کو متاثر نہیں ہونے دیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: لوکی فرگوسن نیوزی لینڈ کے لیے
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔