کراچی میٹرو پولیٹن یونیورسٹی میں 2 نئے ڈینز کی تقرری
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
— فائل فوٹو
کراچی میٹرو پولیٹن یونیورسٹی (کے ایم یو) نے اپنی مختلف فیکلٹیز کے لیے 2 نئے ڈینز کی تقرری کا اعلان کر دیا۔
یہ تقرریاں وائس چانسلر ڈاکٹر وسیم قاضی کی سفارش پر وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے میٹرو پولیٹن یونیورسٹی ایکٹ 2022ء کے تحت کی ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر ناصر علی خان کو فیکلٹی آف ڈینٹسٹری اینڈ الائیڈ کا 3 سال کی مدت کے لیے ڈین مقرر کیا گیا ہے جبکہ پروفیسر ڈاکٹر گل افشاں کو فیکلٹی آف بیسک میڈیکل سائنسز کا ڈین ان کی ریٹائرمنٹ یعنی 11 جون 2027ء تک کے لیے مقرر کیا ہے۔
کالج آف فزیشن اینڈ سرجنز پاکستان کے خازن پروفیسر محمد مسرور نے انٹر نیشنل ٹریننگ فیلوشپ (آئی ٹی ایف) پروگرام سے متعلق حالیہ دنوں میں برطانوی میڈیا، بالخصوص برٹش میڈیکل جرنل (بی ایم جے) اور ڈیلی میل میں شائع ہونے والی رپورٹس میں لگائے گئے تمام الزامات کو بے بنیاد، گمراہ کن اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے دونوں معزز اساتذہ کو نئی ذمے داریاں سنبھالنے پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد دی ہے۔
توقع کی جا رہی ہے کہ ان کی قیادت میں تعلیم کے معیار، تحقیق اور ادارے کی ترقی میں مزید بہتری آئے گی۔
کراچی میٹرو پولیٹن یونیورسٹی کی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اعلیٰ معیار کی تعلیم اور بہترین تعلیمی ماحول کی فراہمی کے لیے مسلسل کام کرتی رہے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔