پاکستان توڑنے والوں کو ہماری نعش سے گزرنا ہو گا، ڈیڑھ سال ہوا، جیل مردوں کی طرح کاٹو، عورتوں جیسا کیوں رو رہے ہو: زرداری
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
صادق آباد (نیٹ نیوز) صدرزرداری نے کہا ہے کہ پیدا ہونے کے بعد اذان کے بعد گولیوں کی آواز سنی، ان سے نہ ڈراؤ۔ کارکنوں سے خطاب میں صدر نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم بنایا، ہم سرائیکیوں کی عزت کرتے ہیں۔ میری مادری زبان سرائیکی ہے۔ بی بی کی سوچ جیسا لیڈر نظر نہیں آتا، انہوں نے بھٹو سے اور ہم نے بی بی سے سیاست سیکھی۔ بینظیر بھٹو کو دوست ممالک نے پاکستان واپسی سے منع کیا، بی بی نے کہا میں نے عوام سے وعدہ کیا ہے۔ بی بی کے نصیب میں شہادت تھی، میرے گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایسا ہوگا، جب وہ گاڑی میں بیٹھیں، میں نے منع کیا کہ جانے کی ضرورت نہیں، وہ نہ ڈرنے والی بھٹو کی بیٹی تھیں۔ ہم پاکستان کو ٹوٹنے نہیں دیں گے۔ ابھی ڈیڑھ سال ہوا ہے، جیل مردوں کی طرح کاٹو، عورتوں کی طرح کیوں رو رہے ہو، میری بہن کو رات کو پکڑا، اس وقت یاد نہیں آیا، بے نظیر بھٹوکو 5 سال سکھر جیل میں بند کیا گیا۔ جتنا آپ جھکیں گے اتنی عزت ملے گی، پاکستان توڑنے والوں کو ہماری لاش سے گزرنا پڑے گا۔ پنجاب کے کچے میں حکومت یونیورسٹی بنائے گی۔ یونیورسٹی کی اجازت صدر دیتا ہے، میں چاہتا ہوں میڈیکل یونیورسٹی بنے۔ آپ اور آنے والی نسل سرمایہ ہیں۔ فنڈز کے لئے چیف منسٹر سندھ سے بات کروں گا۔ میاں صاحب سے بھی بات کروں گا۔ بانی پی ٹی آئی نے مجھے بندوق کی نوک پر رکھنے کی دھمکی دی تھی۔ جیل میں قید لیڈر اب بہانے ڈھونڈ رہا ہے۔ بی بی کی سوچ جیسا لیڈر نہیں نظر آتا۔ ہم نے سوات میں جھنڈا لگایا۔ مجھے پتہ تھا پیچھے بیٹھا بنیا ہمارے بچوں کو گمراہ کر رہا تھا۔ جیل تو دو سال بعد پوچھتی، ابھی ڈیڑھ سال ہوا۔ ہم مرد ہیں، ہمارا کیا، ایک نہتی لڑکی کھڑی ہو گئی، عوام اس کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ آپ تو انڈیا سے آئے، ہمارے بڑوں کی تو سات سو سال سے قبریں ہیں، پہلے پاکستان ہمارا ہے، پھر آپ کا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔