پنجاب لیبر کوڈ مزدوروں کے مستقبل پر کاری ضرب ہے‘ عمران علی
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
عمران علی، جنرل سیکرٹری پاکستان فیڈریشن آف کیمیکل، انرجی، مائنز اینڈ جنرل ورکرز یونیز نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی سے منظور شدہ نیا لیبر کوڈ محنت کش طبقے کے بنیادی حقوق پر براہِ راست حملہ ہے۔ اسے مزدور دوست اصلاحات کہنا سچائی کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ محض ایک قانون نہیں بلکہ محنت کشوں کے مستقبل، روزگار کے تحفظ اور اجتماعی طاقت کو کمزور کرنے کی منظم کوشش ہے۔ مزدور تنظیموں کے تحریری اعتراضات کو نظر انداز کر کے یہ قانون منظور کیا گیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مشاورت کا عمل محض رسمی کارروائی تھا۔
اس قانون کے تحت ہڑتال کے حق کو ایسی پیچیدہ شرائط اور طویل قانونی رکاوٹوں میں جکڑ دیا گیا ہے کہ وہ عملاً بے معنی ہو جائے گا۔ جب مزدور کا آخری آئینی اور جمہوری ہتھیار ہی غیر مؤثر بنا دیا جائے تو برابری کی بنیاد پر مذاکرات کیسے ممکن ہوں گے؟
عمران علی نے کہا کہ مستقل روزگار کا تصور مزدور کے معاشی استحکام کی بنیاد تھا۔ اب فکسڈ ٹرم کنٹریکٹ، عارضی تقرریاں اور محدود مدت کے معاہدے عام کر کے لاکھوں مزدوروں کو مستقل عدم تحفظ کی کیفیت میں دھکیلا جا رہا ہے۔
اگر روزگار غیر یقینی ہو جائے تو مزدور آواز اٹھانے سے بھی ڈرے گا اور یہی اس قانون کا اصل مقصد دکھائی دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایمپلائمنٹ ایجنسیوں اور کنٹریکٹرز کو قانونی تحفظ دے کر مزدور اور اصل مالک کے درمیان فاصلہ پیدا کیا جا رہا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ذمہ داری کا تعین مشکل ہو جائے گا اور استحصال کے دروازے کھل جائیں گے۔
ترقی یافتہ ممالک کی مثال دینا گمراہ کن ہے، کیونکہ وہاں لیبر مارکیٹ کی لچک کے ساتھ مکمل سوشل سیکورٹی، بے روزگاری الاؤنس، پنشن اور علاج کی ضمانت بھی موجود ہوتی ہے۔ ہمارے ملک میں ان بنیادی تحفظات کے بغیر یہی ماڈل نافذ کرنا ناانصافی ہے۔
عمران علی نے انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی بڑی قومی فیڈریشنز کی جانب سے تاحال کوئی واضح، متحد اور جارحانہ لائحہ عمل سامنے نہیں آیا۔ یہ خاموشی محض کمزوری نہیں بلکہ مزدور تحریک کے مستقبل کے لیے خطرناک علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایسے سنگین قانون پر متحد قومی تحریک، آئینی چیلنج اور ملک گیر مزاحمت کا اعلان نہ کیا گیا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ مزدور طبقہ آج قیادت کی طرف دیکھ رہا ہے اور قیادت کی خاموشی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔
یہ وقت مصلحت کا نہیں، مزاحمت کا ہے۔
یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں، متحد ہونے کا ہے۔
یہ وقت مستقبل بچانے کا ہے۔
ہڑتال اور انجمن سازی کے بنیادی حقوق کا غیر مشروط تحفظ یقینی بنایا جائے۔
مستقل ملازمت کے قانونی تصور کو ختم کرنے کی ہر کوشش واپس لی جائے۔
ٹھیکیداری نظام کو سخت قانونی دائرے میں لایا جائے اور اصل آجر کو مکمل ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔
تمام قومی فیڈریشنز فوری طور پر مشترکہ اور واضح لائحہ عمل کا اعلان کریں۔
عمران علی نے اعلان کیا کہ فیڈریشن اس قانون کے خلاف جمہوری، آئینی اور عوامی جدوجہد کو منظم کرے گی۔
انہوں نے کہا:
ہم کمزور ہو سکتے ہیں، مگر خاموش نہیں رہیں گے۔
مزدور کے حق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
یہ لڑائی روٹی، وقار اور مستقبل کی ہے اور ہم اسے ہر حال میں لڑیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا عمران علی نے کہا کہ
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بجٹ سے چند روز قبل ہی آئینی عدالت سے حکومت کو ریونیو کی مد میں بڑا جھٹکا، وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی۔
نجی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے غیر رجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31 اے میں ابہام ہے، حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا، اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں، قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں مزید لکھا کہ رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی۔
وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا۔ پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔
ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان
مزید :