جسے کرکٹ کا پتہ نہیں وہ پی سی بی کا چیئرمین ہے: شعیب اختر
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
لاہور (ویب ڈیسک) سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے پاک بھارت میچ میں پاکستان کی کارکردگی پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جسے کرکٹ کا پتہ نہیں وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین ہے، ایسے میں ٹیم کیسے جیتے گی۔
بھارتی چینل پر ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شعیب اختر کا کہنا تھا کہ نالائق اور جاہل بندے کو بڑی ذمہ داری دینا سب سے بڑا جرم ہے، ایسا شخص ملک اور ادارے کو تباہ کرے گا، مثال آپ کے سامنے ہے۔
انہوں نے کہا کہ انڈیا کی ٹیم بہت آگے چلی گئی ہے، ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں، ایسے بندے کو سٹار بنایا ہے جو 10 اوورز بھی نہیں کرسکتا، ایسے لوگوں کو سٹار بناؤ گے تو یہی ہوگا۔
شعیب اختر ???????????? pic.
— Abbas Shabbir (@Abbasshabbir72) February 15, 2026
دوسری طرف قومی ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ سینئر کھلاڑیوں کو آرام اور نوجوانوں کو موقع دینے کا مطالبہ کر دیا۔
شاہد آفریدی نے واضح طور پر کہا کہ اگر فیصلہ ان کے ہاتھ میں ہو تو وہ شاہین شاہ آفریدی، بابر اعظم اور شاداب خان کو بھی کچھ عرصے کیلئے باہر بٹھا کر نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.