خریدار کنسورشیم نے پی آئی اے کے تمام شعبہ جات کے حکام سے تفصیلات طلب کر لیں
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری کے بعد کی صورتحال کے معاملے پر پی آئی اے کے تمام شعبہ جات کا آڈٹ شروع کر دیا گیا ہے۔
خریدار کنسورشیم نے پی آئی اے کے تمام شعبہ جات کے حکام سے تفصیلات طلب کر لیں، آڈٹ میں تمام شعبوں میں کام کرنے والے پی آئی اے ملازمین کی تعداد اور بجٹ اخراجات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
پی آئی اے کے خریدار گروپ کو ایچ آر، پسنجر ہینڈلنگ، انجینئرز، پائلٹس، مارکیٹنگ، میڈیکل، فلائٹ آپریشن شعبہ سمیت تمام شعبہ جات کے حکام پریزینٹیشن دیں گے۔
ذرائع نے کہا کہ پی آئی اے میں ایک ہی خاندان کے کتنے ملازمین کن شعبہ جات میں کام کرتے ہیں کنسورشیم ٹیم باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تمام شعبہ جات پی آئی اے کے
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔