بابر اعظم ٹی 20 ورلڈ کپ میں 2021 کے بعد ایک بھی چھکا نہ لگا سکے
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف بدترین شکست کے بعد قومی کرکٹ ٹیم کی مجموعی کارکردگی کے ساتھ ساتھ اسٹار بیٹر بابر اعظم کی فارم ایک بار پھر شدید بحث کا موضوع بن گئی ہے، جہاں نہ صرف ان کی حالیہ ناکامیوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں بلکہ ان کی بیٹنگ میں ایک اہم کمزوری بھی نمایاں ہو کر سامنے آ گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق بابر اعظم سال 2021 کے بعد سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے کسی بھی میچ میں فل ممبر ٹیم کے خلاف ایک بھی چھکا لگانے میں کامیاب نہیں ہو سکے، جو مختصر فارمیٹ کے تقاضوں کے برعکس ایک تشویشناک پہلو سمجھا جا رہا ہے۔
کرکٹ تجزیہ کار مظر ارشد نے اس انکشاف کے ساتھ توجہ دلائی ہے کہ دبئی میں بھارت کے خلاف تاریخی فتح کے بعد سے بابر اعظم کی اسٹرائیک ریٹ اور باؤنڈریز لگانے کی صلاحیت میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
کولمبو میں کھیلے گئے اہم مقابلے میں بھارتی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 175 رنز کا مسابقتی مجموعہ ترتیب دیا، جس کے جواب میں پاکستانی بیٹنگ لائن مکمل طور پر لڑکھڑا گئی۔ قومی ٹیم 176 رنز کے ہدف کے تعاقب میں ابتدا ہی سے دباؤ کا شکار رہی اور کوئی بھی بیٹر ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کر سکا۔ صاحبزادہ فرحان کھاتہ کھولے بغیر پویلین لوٹ گئے، صائم ایوب 6، کپتان سلمان آغا 4 اور بابر اعظم محض 5 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔
میچ کے دوران ٹاپ آرڈر کی مسلسل ناکامی نے ٹیم کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا، جہاں سات کھلاڑی ڈبل فیگر میں داخل ہونے سے بھی قاصر رہے۔ نتیجتاً پوری پاکستانی ٹیم صرف 18 اوورز میں 114 رنز پر ڈھیر ہو گئی اور بھارت نے 61 رنز سے واضح فتح حاصل کرتے ہوئے اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کر لیا۔
اس شکست کے بعد نہ صرف شائقین بلکہ سابق کھلاڑیوں اور ماہرین کی جانب سے بھی قومی ٹیم پر سخت تنقید کی جا رہی ہے، جبکہ بابر اعظم کی مسلسل کمزور کارکردگی پر انہیں ٹیم سے باہر بٹھانے تک کے مشورے سامنے آ رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جدید ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں بڑے شاٹس اور تیز رفتار اسکورنگ بنیادی تقاضے ہیں، اور اگر بابر اعظم اپنی بیٹنگ میں جارحانہ انداز واپس نہ لا سکے تو ٹیم کے لیے مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔
کرکٹ حلقوں میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ کیا ٹیم مینجمنٹ بابر اعظم کی تکنیکی خامیوں پر سنجیدگی سے کام کرے گی یا پھر قومی ٹیم آئندہ میچز میں بھی اسی طرح دباؤ کا شکار ہوتی رہے گی۔ آنے والے مقابلے نہ صرف بابر اعظم بلکہ پوری پاکستانی ٹیم کے لیے خود کو منوانے کا ایک اہم موقع ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بابر اعظم کی کے بعد
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔