تھانہ عزیزآباد،اول نمبر گٹکا ماوا ڈیلر اور کارخانے کو پکڑنے میں ناکام
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
ڈیلر طاہر عرف بوبی کی کارندوں سلمان لڈو، آصف نیاپو کے ذریعے 12 ہزار روزانہ گٹکا ماوا کی فروخت جاری
کارروائی نہ کرنے کی مد میں ایس ایچ او شاہد تاج اور اس کا خاص بیٹر کامل لاکھوں روپے لیتے ہیں، علاقہ مکین
(رپورٹ؍ ایم جے کے)ڈسٹرکٹ سینٹرل’ تھانہ عزیزآباد’ اول نمبر گٹکا ماوا ڈیلر اور اس کے کارخانے کو پکڑنے میں ناکام، ڈیلر طاہر عرف بوبی کی اپنے کارندوں سلمان لڈو، آصف نیاپو کے ذریعے علاقے میں 12 ہزار روزانہ گٹکا ماوا کی فروخت جاری، کارروائی نہ کرنے کی مد میں ایس ایچ او شاہد تاج اور اس کا خاص بیٹر کامل لاکھوں روپے لیتے ہیں، علاقہ مکین۔ علاقہ ذرائع کے مطابق عزیزآباد کا اول نمبر گٹکا ماوا ڈیلر سماج دشمن عناصر طاہر عرف بوبی ولد محمد اقبال رہائش فلیٹ نمبر1، پلاٹ 95 محلہ میمن کالونی فیڈرل بی ایریا وسطی کراچی، جس پر تھانہ عزیزآباد میں 2020 اور 2025 میں گٹکا ماوا سپلائی اور فروخت کے جرم میں ایف آئی آر بھی درج ہوچکی ہیں اس نے علاقے میں اپنے پنجے مکمل پھر گاڑ لیے اور اپنے کارخانے میں جو کہ اوکھائی مسجد والی گلی میں یا اسکی والدہ کے گھر پر بتایا جاتا ہے وہاں سے روزانہ کی بنیاد پر 12 ہزار گٹکا ماوا کی پڑیاں تیار کرکے علاقہ عزیزآباد میں اپنے درجن سے زائد کیبنوں پر سپلائی اور فروخت کروا رہا ہے، سماج دشمن عناصر اول نمبر گٹکا ماوا ڈیلر طاہر عرف بوبی کے کیبن حسین آباد صفحہ مسجد کے سامنے، کراچی حلیم کے سامنے، کتیانہ ہسپتال کے برابر میں، یونائیٹڈ بیکری کے پاس، اوکھائی مسجد کے پاس، صدیق آباد، باٹوا ٹاؤن اور دیگر جگہ پر قائم ہیں جہاں یہ اپنے کارندے جن میں سلمان لڈو، آصف نیاپو، نعمان بندانی، نعیم فرکی، جنید اور دیگر کے ذریعے روزانہ 1500 یا 2000 روپے دیہاڑی پر سپلائی اور فروخت کروا رہا ہے، سماج دشمن عناصر اول نمبر گٹکا ماوا ڈیلر طاہر عرف بوبی علاقے میں اپنے کارخانے سے تیار کردہ زہر نما گٹکا ماوا سپلائی و فروخت کرنے کی مد میں ہفتہ ایس ایچ او عزیزآباد شاہد تاج کو اسکے خاص بیٹر کامل کے ہاتھوں تین لاکھ روپے دیتا ہے، علاقہ مکین کا سندھ رینجرز، آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈی آئی جی ویسٹ زون اور ایس ایس پی سینٹرل سے کہنا ہے کہ جس طرح رینجرز نے عمیر عرف ببلو کے کارخانے پر چھاپہ مار کر اسکے کارخانہ کو ختم کیا اسی طرح طاہر عرف بوبی کے کارخانے پر بھی چھاپہ مار کر اسکے زہر نما گٹکا ماوا کارخانے کو ختم کیا جائے، علاقہ مکین کا مزید کہنا ہے کہ عزیزآباد میں منشیات و گٹکا ماوا ڈیلر سماج دشمن عناصر طاہر عرف بوبی کے خلاف بھرپور کارروائی کریں اور منشیات و گٹکا ماوا سپلائی اور فروخت کی سرپرستی کرنے پر ایس ایچ او عزیزآباد شاہد تاج اور اس کا خاص بیٹر کامل کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی بھی کی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ڈیلر طاہر عرف بوبی سپلائی اور فروخت خاص بیٹر کامل علاقہ مکین ایس ایچ او شاہد تاج اور اس
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم