جہلم: انجینئر محمد علی مرزا پر قاتلانہ حملہ، ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا—فائل فوٹو
مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا پر جہلم میں حملہ کرنے والے شخص کو گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق گزشتہ رات قاتلانہ حملے میں انجینئر محمد علی مرزا محفوظ رہے، ملزم خالی ہاتھ تھا۔
جہلم پولیس نے ممتاز عالم دین انجینئر محمد علی مرزا کو گرفتار کر لیا۔
حملے کے وقت محمد علی مرزا درس کے بعد فوٹو سیشن میں مصروف تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم ایبٹ آباد کا رہائشی ہے اور اس کا تعلق کالعدم جماعت سے بتایا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال انجینیئر محمد علی مرزا کو مبینہ توہینِ مذہب کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا تاہم دسمبر 2025ء میں انہیں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: انجینئر محمد علی مرزا
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔