اقوامِ متحدہ کی نمائندہ پر اسرائیل کا جھوٹا الزام؟ یورپی وزرا کو شدید تنقید کا سامنا
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
جنیوا/پیرس: اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے مقبوضہ فلسطینی علاقوں فرانچیسکا البانیز کے خلاف مبینہ جھوٹے بیان کے معاملے پر یورپ میں شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
متعدد عالمی میڈیا اداروں نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے اسرائیل کو “انسانیت کا مشترکہ دشمن” قرار نہیں دیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق France 24 اور Reuters نے ویڈیو اور ٹرانسکرپٹ کی جانچ کے بعد واضح کیا کہ دوحہ میں ایک فورم کے دوران البانیز کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ اصل میں وہ عالمی مالیاتی نظام اور اسلحہ کی صنعت کا حوالہ دے رہی تھیں۔
اس کے باوجود فرانس، جرمنی اور دیگر یورپی ممالک کے بعض وزرا نے تاحال اپنے بیانات واپس نہیں لیے۔
ایمنیسٹی کی سیکریٹری جنرل ایگنس کالامارد نے مطالبہ کیا ہے کہ یورپی وزرا نہ صرف اپنے الزامات واپس لیں بلکہ سرِعام معافی بھی مانگیں۔ انہوں نے اسے “سیاسی بزدلی” قرار دیا۔
ادھراو آئی سی نے بھی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ من گھڑت الزامات اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
فرانس میں اس معاملے نے قانونی رخ بھی اختیار کر لیا ہے۔ فرانسیسی وکلا کی ایک تنظیم نے وزیر خارجہ یان نیول بیروٹ کے خلاف مبینہ غلط معلومات پھیلانے پر پیرس کے پراسیکیوٹر کے پاس شکایت درج کرا دی ہے۔
دوسری جانب 100 سے زائد عالمی شخصیات نے بھی البانیز کی حمایت کی ہے، جن میں اداکار مارک رافیلو اور یاویئر بارڈیم شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطینی حقوق کی حمایت پر اقوامِ متحدہ کی نمائندہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
فرانچیسکا البانیز نے سوشل میڈیا پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا اور سچ سامنے آنے کے باوجود اصلاح نہیں کی جا رہی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: متحدہ کی
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔