سونے کی قیمت میں کمی ریکارڈ؛ فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
عالمی ومقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
چین اور روس سمیت دیگر ممالک کی جانب سے سونے اور چاندی کی خریداری سرگرمیاں رکنے، عالمی مارکیٹ پلئیرز کی جانب سے پرافٹ ٹیکنگ کے سبب پیر کو عالمی و مقامی سطح پر سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی کا رحجان غالب رہا۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 32ڈالر کی کمی سے 5ہزار 010ڈالر کی سطح پر آنے کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی پیر کو فی تولہ سونے کی قیمت 3ہزار 200روپے کے اضافے سے 5لاکھ 23ہزار 762روپے کی سطح پر آگئی اور فی دس گرام سونے کی قیمت بھی 2ہزار 743روپے کی کمی سے 4لاکھ 49ہزار 041روپے کی سطح پر آگئی۔
اسی طرح عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت 55سینٹس کی کمی سے 76ڈالر 80سینٹس کی سطح پر آنے سے مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ چاندی کی قیمت 55روپے کی کمی سے 8ہزار 164روپے اور فی دس گرام چاندی کی قیمت 47روپے کی کمی سے 6ہزار 999روپے کی سطح پر آگئی۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق ملکی سونے کے ذخائر 64.
اعدادوشمار کے مطابق جنوری 2026 کے دوران ملکی سونے کے ذخائر کی مالیت میں 1ارب 27 کروڑ 90لاکھ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اس طرح سے رواں مالی سال کے ابتدائی 7 ماہ کے دوران ملکی سونے کے ذخائر کی مالیت 3.5ارب ڈالر بڑھ گئی ہے۔ جون 2025 میں ملکی سونے کے ذخائر کی 6.84ارب ڈالر تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ملکی سونے کے ذخائر چاندی کی قیمت سونے کی قیمت کی کمی سے کی سطح پر
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔