موٹرسائیکل سوار فیملی کو ٹکر مارنے والا کار ڈرائیور گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
نصیر آباد میں موٹرسائیکل سوار فیملی کو ٹکر مار کر فرار ہونے والا کار ڈرائیور گرفتار کرلیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سی بی ڈی روڈ پر کار سوار نے موٹر سائیکل کو ٹکر ماری جس سے بائیک سوار خاتون اور 2 بچے زخمی ہوگئے۔
کار ڈرائیور کی زگ زیگ ڈرائیونگ و تیز رفتاذی کی وجہ سے حادثہ پیش آیا۔ سی بی ڈی روڈ پر مامور اسپیشل ٹیم نے دوران پٹرولنگ ایکسیڈنٹ دیکھ کر موقع پر پہنچ گئی۔
ریسکیو ٹیم آنے سے پہلے ڈولفن ٹیم نے ممکنہ طور پر خاتون و بچوں کو طبی امداد دی۔ حادثہ میں زخمی ہونیوالوں میں ارم بی بی، 3 سالہ علی اور 6 ماہ کا دارویال شامل ہیں۔
ڈولفن ٹیم نے طبی امداد کیلئے فیملی کو جنرل اسپتال منتقل کر دیا۔ کار ڈرائیور کے فرار کی کوشش ناکام بناتے ہوئے پٹرولنگ پر مامور ڈولفن ٹیم نے کار ڈرائیور کو گرفتار کر لیا۔
کار ڈرائیور عبدالله گاڑی سمیت کارروائی کیلئے تھانہ نصیر آباد کے حوالے کردیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کار ڈرائیور ٹیم نے
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔