محسن نقوی کی سری لنکن وزیر کھیل سے ملاقات، باہمی تعاون مزید بڑھانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
وفاقی وزیرِ داخلہ و چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی سری لنکا کے وزیرِ کھیل و امورِ نوجوانان سنیل کمارا گیمیج سے ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور کھیلوں، خصوصاً کرکٹ کے فروغ کے لیے تعاون بڑھانے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ سری لنکن وزارتِ کھیل کے ساتھ اشتراک میں اضافے پر بھی اتفاق ہوا۔ دونوں ممالک نے کرکٹ سمیت دیگر کھیلوں کے فروغ کے لیے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس موقع پر محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سری لنکا کے تعلقات میں گرمجوشی آرہی ہے۔ کرکٹ سمیت دیگر کھیلوں کے ذریعے یہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ محسن نقوی نے ٹی 20 ورلڈ کپ کے موقع پر بہترین انتظامات کو سراہتے ہوئے سری لنکا میں ملنے والی محبت اور شاندار مہمان نوازی پر شکریہ بھی ادا کیا۔ محسن نقوی نے سری لنکن وزیرِ کھیل و امورِ نوجوانان کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔ سری لنکا میں پاکستان کے ہائی کمشنر بھی ملاقات میں موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔