ہم نے عمران خان کو جیل میں سہولیات سے محروم کرنے کا کبھی سوچا تک نہیں، مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ عمران خان کہتے تھے کہ جیل میں قید نواز شریف کے سیل کا اے سی نکلوادوں گا لیکن آج اقتدار نواز شریف کے ہاتھ میں ہے، ان کے بھائی وزیراعظم اور ان کی بیٹی پنجاب کی وزیراعلیٰ ہے لیکن ہم تینوں کے ذہن میں کبھی ایسی بات نہیں آئی کہ عمران خان کو جیل کی کسی سہولت سے محروم کریں۔
یہ بھی پڑھیں: پورا پاکستان روشن لیکن میرا لیپ ٹاپ کیوں نہیں؟ طالبہ کی مریم نواز سے دلچسپ شکایت
گجرات یونیورسٹی میں اسکالرشپ اور لیپ ٹاپ کی تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ سہولتوں سے محروم کرنا تو درکنار ان کے والد نے تو یہاں تک کہا تھا کہ عمران خان کے سیل میں صرف ایک اے سی ہے ان کو 2 اے سی دیے جانے چاہییں۔
مریم نواز نے کہا کہ میں سیاست میں بھی نہیں تھی اس وقت عمران خان نے مجھے جیل میں ڈلوایا۔
مزید پڑھیے: وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے مستحق افراد کے لیے نئے فلاحی پروگرام کا اجرا
انہوں نے کہا کہ نیب نے جب مجھے کرپشن کے جھوٹے الزام میں جیل میں ڈالا تو ان کے پاس خواتین کو رکھنے کی الگ جگہ نہیں تھی کیوں کہ میں پہلی خاتون تھی جس کو نیب نے قید کیا لہٰذا ان کو ایک کمرا خالی کرواکے مجھے رکھنا پڑا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔