فتنہ الہندوستان کی جانب سے بلوچوں کی نسل کشی جاری ہے، متاثرین
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
تربت:(نیوزڈیسک) فتنہ الہندوستان کی جانب سے بلوچوں کی نسل کشی جاری ہے۔ بھارتی پراکسیز کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہوچکاہے۔بلوچ عوام فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے بیانیہ کو مسترد کر کے بلوچ نسل کشی کیخلاف آواز اٹھانے لگے۔
فتنہ الہندوستان کے ہاتھوں شہید ہونے والے بلیدہ کے نوید ہاشم کے اہلِ خانہ نے تربت میں اہم پریس کانفرنس کی ہے۔فتنہ الہندوستان کے سفاک دہشتگردوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے نوید ہاشم کی ماں نے دکھ بھری داستان سناتے ہوئے کہا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے میرے بیٹے کو اغوا کر کے 26 دن تک لاپتہ رکھا۔فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے میرے بیٹے پر تشدد کیا اور اذیتیں دیکر شہید کر دیا۔انہوں نے کہا کہ شہید کرنے کے بعد میرے بیٹے کی لاش کو پیرکین میں پھینک دیا گیا۔کوئی بلوچ اپنے بھائیوں کے ساتھ ایسا کر ہی نہیں سکتا،ماوں کے دل مت توڑیں۔
شہید نوید ہاشم کی بہن کا کہنا تھا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے معصوم بچوں کو یتیم کر دیا۔دہشتگردوں نے تین معصوم بچوں سے ان کے باپ کا سایہ چھین لیا۔یہ بات فتنہ الہندوستان کی طرف سے کی گئی ہے کہ ہم نے مارا ہے اور پھینک دیا ہے۔اگر اس طرح فتنہ الہندوستان بے گناہ لوگوں کو مار کر پھینک دیتی ہے تو یہ بلوچ قوم کی دوست نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں دہشتگردوں نے
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔