لطیف کھوسہ کا سپریم کورٹ کو خط، عمران خان کی میڈیکل رپورٹس فراہم کرنےکا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے سپریم کورٹ کو خط لکھ کر بانی پی ٹی آئی کی میڈیکل رپورٹ فراہم کرنے کا مطالبہ کردیا۔
لطیف کھوسہ نے چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کو خط لکھا جس میں بانی پی ٹی آئی کی میڈیکل رپورٹس فراہم کرنےکا مطالبہ کیا گیا ہے۔
خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کے ذاتی معالجین ڈاکٹر فیصل اور ڈاکٹر عاصم کو معائنےکی اجازت دی جائے، بانی پی ٹی آئی کو الشفاء اسپتال منتقل کرنےکا حکم بھی دیا جائے۔
خط کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی گرتی ہوئی صحت اہلخانہ اورعوام کے لیے تشویش کا باعث ہے، بیماری کے دوران بھی عمران خان کو بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا گیا، عدالتی حکم پر بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ ہوا لیکن اہلخانہ کو لاعلم رکھا گیا۔
لطیف کھوسہ نے خط میں اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیا کہ عمران خان کے اہلخانہ اور پارٹی قائدین کو بلایا گیا لیکن وہ نہیں آئے۔
خط کے مطابق عمران خان کےاہلخانہ اور پارٹی قیادت کو طبی معائنے کے وقت بلانے کا دعویٰ بالکل غلط ہے، اہلخانہ کو آگاہ کیے بغیر خفیہ طبی معائنے نےکئی خدشات کو جنم دیا ہے، طبی معاملے سے اہلخانہ کو باہر رکھنے سے پریشانی اور خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لطیف کھوسہ
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔